محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ ابتدائی علاج کے بعد عمران خان کی آنکھوں کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اب انہیں دیوار پر لگی گھڑی کی سوئیاں نظر آنا شروع ہوگئی ہیں۔
قومی اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بتایا کہ ڈاکٹروں کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی آنکھ 95 فیصد تک ٹھیک ہو چکی ہے، جو ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھیں محفوظ ہیں اور ان کی صحت میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چیک اپ سے قبل بانی پی ٹی آئی نے ڈاکٹرز کو آگاہ کیا تھا کہ انہیں دیوار پر لگی گھڑی نظر نہیں آ رہی تھی، تاہم ابتدائی علاج کے بعد اب ان کی بینائی میں واضح بہتری آئی ہے اور وہ گھڑی کی سوئیاں دیکھنے کے قابل ہوگئے ہیں۔
اس موقع پر قومی اسمبلی پاکستان کے ارکان نے بانی پی ٹی آئی کی صحت میں بہتری پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹرز بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کا مسلسل معائنہ کر رہے ہیں اور ان کی مکمل صحت یابی کے لیے علاج جاری ہے۔
دوسری جانب بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے آنکھوں کےمعائنہ سے متعلق میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق عمران خان کے صحت کا معائنہ کرنے کے لیے 2 رکنی میڈیکل بورڈ نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا معائنہ 15 فروری 2026 کو کیا گیا، پروفیسرز پر مشتمل ماہر امراضِ چشم کے میڈیکل بورڈ نے مائنہ کیا، میڈیکل بورڈ میں الشفاء ٹرسٹ آئی اسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور پمز اسلام آباد کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان شامل تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی عینک کے بغیر 6/24 پارشل ریکارڈ ہوئی جبکہ بائیں آنکھ کی بینائی 6/9 ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق عینک کے ساتھ دائیں آنکھ کی بینائی بہتر ہو کر 6/9 پارشل ہوگئی جبکہ بائیں آنکھ کی بینائی مکمل طور پر 6/6 ہوگئی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ دائیں آنکھ کے معائنے میں پردہ بصارت پر سوزش کے آثار پائے گئے ہیں، دائیں آنکھ کی سوجن میں کمی آئی ہے، دائیں آنکھ کی موٹائی 550 سے کم ہو کر 350 ہوگئی جو بہتری کی علامت ہے۔
رپورٹ کے مطابق میڈیکل بورڈ نے دونوں آنکھوں کے لیے نیواناک اور سسٹین الٹرا ڈراپس تجویز کیے جبکہ صرف دائیں آنکھ کےلیے کوسوپٹ آئی ڈراپس تجویز کیے گئے۔
میڈیکل رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی بینائی 6/36 سے بہتر ہو کر 6/9 پارشل ہوگئی جو اس مرحلے پر کافی اچھی بینائی ہے، ماہرین نے اینٹی وی ای جی ایف علاج کی تکمیل کے بعد او سی ٹی اینجیو گرافی اور ایف ایف اے ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ کے چیک اپ کے بعد اپوزیشن کے 2 رہنما علامہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر خان نے رات 9 بجے پمز اسپتال کا دورہ کیا، ڈاکٹرعاصم اور خرم مرزا کو بھی دونوں رہنماؤں کی موجودگی میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق بریف کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالجین اور رہنماؤں نے طبی سہولیات اور علاج پر اطمینان کا اظہار کیا۔