البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں ہزاروں مظاہرین کئی دنوں سے سڑکوں پر مارچ کر رہے ہیں۔ یہ افراد ایک لگژری سیاحتی منصوبے کی منسوخی کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کا تعلق مبینہ طور پر امریکی صدر کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ اور ان کے داماد جیرڈ کشنر سے بتایا جاتا ہے۔
گلابی فلامنگوز اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی کی تصاویر البانیہ میں ساحلی سیاحتی منصوبے کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی نمایاں خصوصیات ہیںالبانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں ہزاروں مظاہرین کئی دنوں سے سڑکوں پر مارچ کر رہے ہیں۔ یہ افراد ایک لگژری سیاحتی منصوبے کی منسوخی کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کا تعلق مبینہ طور پر امریکی صدر کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ اور ان کے داماد جیرڈ کشنر سے بتایا جاتا ہے۔
مظاہرین نے البانوی پرچم اٹھا رکھے ہیں اور بدعنوانی کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی اور چمکدار گلابی فلامنگوز کی متعدد تصاویر بھی اٹھائی ہوئی ہیں۔ یہ ایک بڑھتی ہوئی مہم کا حصہ ہیں، جس میں ایوانکا اور ان کے شوہر کشنر سے ’اپنے ملک واپس جانے‘ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اس علاقے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی وسیع پیمانے پر ہوئیں، جہاں لوگ ’منصوبہ منسوخ کرو‘ کے نعرے لگا رہے تھے اور ’البانیہ برائے فروخت نہیں‘ کے بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔
یہ 1.4 ارب یورو (1.6 ارب ڈالر) کا ریزورٹ ایک جزیرے اور البانوی ساحلی پٹی کے ایک غیر ترقی یافتہ حصے پر تعمیر کیا جانا ہے، جو ایک محفوظ دلدلی علاقے کے قریب ہے جہاں فلامنگوز، سیلز اور سمندری کچھووں کی پناہ گاہیں موجود ہیں۔
ملک کے وزیراعظم ایڈی راما اس منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں اور انھوں نے اس خطے کے لیے چار ارب یورو کے وژن کو بیان کیا ہے جس سے روزگار اور بنیادی ڈھانچہ دونوں آئیں گے۔
وہ جزیرہ جو ایوانکا ٹرمپ کی نظروں کو بھا گیا
ترقیاتی منصوبوں میں سازان جزیرہ اور قریبی ساحلی علاقے شامل ہیں جو محفوظ دلدلی علاقوں کے قریب واقع ہیں5.7 مربع کلومیٹر پر مشتمل غیر آباد سازان جزیرہ ایڈریاٹک سمندر میں ولورا کے ساحل کے قریب واقع ہے، جو جنوب مغربی البانیہ کا ایک شہر ہے۔
یہ جزیرہ دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک سٹریٹیجک عسکری اڈے کے طور پر استعمال ہوتا تھا، بعد میں 1950 کی دہائی میں سوویت حمایت یافتہ دفاعی نیٹ ورک کا حصہ بنا، اور البانیہ کی سوویت یونین سے علیحدگی کے بعد بھی ایک دفاعی چوکی رہا۔
اسی وجہ سے جزیرے پر ہزاروں بنکرز اور زیر زمین سرنگوں کے علاوہ، غیر پھٹے ہوئے بارودی مواد کی بڑی مقدار سمندر کی تہہ اور اس کے پتھریلے ساحل پر بکھری ہوئی ہے۔
ایک امریکی پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ایوانکا ٹرمپ نے کہا کہ وہ اور ان کے شوہر اتفاقاً اس جزیرے تک پہنچے تھے۔
انھوں نے ڈیوڈ سینرا پوڈکاسٹ کو بتایا ’ہم ایک دوست کی کشتی پر تھے اور ہم تیرنے کے لیے رُک گئے‘۔
’اسی دوران ہمیں یہ موقع نظر آیا کہ ہم اس جگہ کی خوبصورتی کو اجاگر کریں اور اسے بہتر بنائیں، لیکن بہت احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ، کیونکہ یہ زمین بے حد خوبصورت ہے۔‘
اس کے بعد ویڈیو کے نیچے البانوی پرچم کے ایموجیز کے ساتھ تبصرے سامنے آئے جیسے ’البانیہ برائے فروخت نہیں!‘ یا ’یہاں سے دور رہو‘۔
گلابی فلامنگو حالیہ مظاہروں کی علامت بن گیا ہے جو لگژری سیاحتی منصوبوں کے خلاف ہو رہے ہیںمقامی لوگ اس منصوبے کے مخالف کیوں ہیں؟
جنوری میں 40 ماحولیاتی تنظیموں نے ریزورٹ منصوبوں کی معطلی کا مطالبہ کیا، یہ کہتے ہوئے کہ اس سے مقامی حیاتیاتی تنوع کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
پی پی این ای اے - برڈ لائف البانیہ کے ماہرِ ماحولیات جونی وورپسی نے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ تمام تعمیرات روک دی جائیں اور بھاری مشینری کو محفوظ علاقے سے باہر نکالا جائے۔‘
’یہ اس جنگلی خطے کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔‘
ابتدائی مظاہرے اس سال مئی کے آخر میں اُس وقت شروع ہوئے جب زویرنیک کے ساحل تک رسائی روکنے کے لیے خار دار تار لگائی گئی، جو سازان جزیرے کے بالمقابل ایک ساحلی پٹی ہے اور ایک محفوظ دلدلی علاقے کے قریب واقع ہے۔
اس زمین اور سازان جزیرے پر لگژری ہوٹلوں اور ولاز کی تعمیر ٹرمپ کے داماد کی جانب سے 2024 میں اعلان کردہ سرمایہ کاری منصوبوں کا حصہ تھی۔
زویرنیک ساحل کے مقام پر احتجاج کرنے والے سینکڑوں افراد میں شامل سٹیوروس بالی کہتے ہیں: ’ہم آج یہاں اس لیے ہیں کیونکہ ہم زویرنیک میں اپنی زمینوں تک جانا چاہتے ہیں۔‘
اس نقشے میں سازان جزیرہ، زویرنیک اور ولورا کے مقامات دکھائے گئے ہیںمظاہروں کی ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ سکیورٹی گارڈز لوگوں کو گھسیٹ کر ہٹا رہے ہیں جبکہ کچھ افراد کو کالی مرچ کے سپرے سے زخمی ہوتے دیکھا گیا، جس کے بعد حکام نے دو نجی سکیورٹی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کر دیے اور متعدد پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا۔
لیکن ہر کوئی اس منصوبے پر شک نہیں کر رہا، جیسے کہ مقامی سیاحت کے شعبے سے وابستہ برائن نیگاٹورے۔
وہ کہتے ہیں: ’آنے والے برسوں میں ہر کسی کو البانیہ کا علم ہو گا۔ یہ وہی چیز ہے جس کا ہم سب خواب دیکھتے رہے ہیں۔‘
انھوں نے جنوری میں ایوانکا ٹرمپ سے اُس وقت ملاقات کی جب وہ سرمایہ کاروں کے ساتھ ولورا کے علاقے کے دورے پر آئیں، اور انھوں نے اپنے خاندانی ساحلی ریزورٹ میں ان کی اور وزیراعظم راما کی میزبانی کی۔
خاردار تار ایک طرف سیاہ لباس پہنے سکیورٹی گارڈز اور دوسری طرف پلے کارڈز اٹھائے مظاہرین کو الگ کر رہی ہے، ایک گارڈ کو باڑ کے پار کوئی چیز واپس پھینکتے دیکھا جا سکتا ہےاس منصوبے کے پیچھے کون ہے؟
2024 کے آخر میں حکومت نے اٹلانٹک انکیوبیشن پارٹنرز کو، جو کشنر سے منسلک ایک کمپنی ہے، ’سٹریٹیجک سرمایہ کار‘ کا درجہ دیا۔
اے ایف پی کے مطابق، اس درجہ بندی کے تحت تیز رفتار انتظامی طریقہ کار اور وزارتوں کی جانب سے معاونت تک رسائی ملتی ہے۔
بی بی سی کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر کشنر کے کاروباری شراکت دار اشر ابیسیرا نے کہا کہ یہ منصوبہ ’ذمہ دارانہ نگرانی و دیکھ بھال‘ پر مرکوز ہے اور ماحول کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مقامی کمیونٹیز کے لیے روزگار اور قدر پیدا کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
بی بی سی نے ٹرمپ آرگنائزیشن سے بھی تبصرے کے لیے رابطہ کیا، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
وزیراعظم ایڈی راما نے اس منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں اس ترقی کے رکنے کا ’کوئی امکان نہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ وہ ’کسی بھی ایسے شخص‘ سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں جسے خدشات ہیں، اور انھوں نے مظاہرین کو دعوت دی کہ وہ تقریباً 20 افراد پر مشتمل ایک وفد منتخب کریں تاکہ ممکنہ حل پر بات کی جا سکے۔
مظاہرین کے منتظمین نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور اب اس معاملے پر وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
البانیہ کے سرکاری انسداد بدعنوانی ادارے نے تصدیق کی ہے کہ اس منصوبے سے متعلق تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، تاہم تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔
کشنر نے بلقان میں اسی نوعیت کے دیگر ترقیاتی منصوبے بھی شروع کیے ہیں۔
سربیا میں ایک مجوزہ لگژری منصوبہ اس مقام کے ورثے کی حیثیت پر تنازع کا سبب بنا۔
ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ ترقیاتی منصوبے ویوسا-نارتا کے دلدلی علاقوں اور ان پر انحصار کرنے والی انواع کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیںالبانیہ میں زمین کے تنازعات کی تاریخ
بالکن انویسٹیگیٹو رپورٹنگ نیٹ ورک سے وابستہ مقامی صحافی ولادیمیر کارائے کہتے ہیں کہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے لیے مختص زمین نجی ملکیت ہے، خاص طور پر زویرنیک ساحلی پٹی کے ساتھ، لیکن متضاد دعوے سامنے آئے ہیں جو نجکاری پر سوال اٹھاتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’زمین کے تنازعات ملک کے سب سے بڑے تنازعات میں شامل ہیں۔ 10 سال سے زیادہ عرصہ پہلے البانیہ میں قتل کے کم از کم ایک تہائی مقدمات جائیداد کے تنازعات سے متعلق تھے اور اب بھی ہر سال ایک یا دو مرتبہ ایسے کیس سامنے آتے ہیں۔‘
البانیہ کی آمرانہ کمیونسٹ ریاست کے خاتمے کے بعد، جس کے تحت تمام جائیداد ریاست کی ملکیت تھی، 1990 کی دہائی میں ملک نجی زمین کی ملکیت کی طرف ایک افراتفری سے بھرپور عبوری دور سے گزرا، کیونکہ متضاد دعووں نے تشدد کو جنم دیا تھا۔
’ابتدا ہی سے اس نے تنازعات کو جنم دیا، حتیٰ کہ چھوٹے دیہات کے اندر بھی، گاؤں سے گاؤں تک، گھر سے گھر تک۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ میرے باپ کی زمین تھی اور وہ اس پر قبضہ کر رہے تھے، جو کہ درست نہیں تھا۔‘