ایران کی اعلیٰ عسکری کمان خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’مسلح افواج کی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔‘ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ قیام امن کے لیے حتمی مذاکرات جاری ہیں تاہم ’جہالت یا حماقت‘ سے یہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ گذشتہ شب سے ایران اور اسرائیل دونوں نے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملوں کے دعوے کیے ہیں۔
- اپریل کے بعد پہلی بار اسرائیل اور ایران کے درمیان حملوں کے تبادلے کے بعد ایران نے اسرائیل کے خلاف اپنی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا ہے
- تاہم ملک کی اعلیٰ عسکری کمان کے ہیڈکوارٹر کے ایک بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اسرائیل جنوبی لبنان پر حملے جاری رکھتا ہے تو ایران ’زیادہ شدید‘ جواب دے گا
- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل سے حملے روکنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ دونوں ممالک ’فوری جنگ بندی‘ چاہتے ہیں
- ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے بعد اسرائیل نے مغربی اور وسطی ایران میں فضائی حملے کیے
- اتوار کو اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل سے ایرانی حملے کا جواب نہ دینے کا مطالبہ کیا تھا
ایرانی فوج کا اسرائیل کے خلاف کارروائیاں روکنے کا اعلان: ’لبنان پر حملہ ہوا تو جواب پہلے سے زیادہ شدید ہو گا‘