آئی ایم ایف، حکومت، صنعتکار اور عوام ہر کوئی ہی ٹیکس بڑھانے یا دیگر افراد سے بھی ٹیکس لینے کی بات تو کرتے ہیں لیکن ابھی بھی بہت بڑی تعداد ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان کا ہر شہری چاہے، اُس کی آمدن قابلِ ٹیکس ہے یا نہیں، وہ ٹیکس دے رہا ہےاسلام آباد کے ایک اچھے سکول میں بڑی کلاسز کی ٹیچر ہونے کے باوجود زینب کی آمدن میں سے ’اچھی خاصی رقم‘ انکم ٹیکس میں کٹ جاتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہر ماہ سیلری سلپ دیکھ کر ’تکلیف ہوتی ہے۔‘
مگر یہ واحد ٹیکس نہیں جو دو بچوں کی والدہ زینب کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’گاڑی میں پیٹرول ڈلواتی ہوں تب بھی ٹیکس دیتی ہوں، موبائل میں بیلنس لوڈ کروانے پر بھی ٹیکس ہے اور کھانے پینے کی چیزوں میں سیلز ٹیکس تو ہے ہی۔ آپ بتائیں میں اپنی انکم پر کتنی بار ٹیکس دوں؟‘
اُن کے خیال میں ہر چیز پر عائد ٹیکس نے اُن کی محدود آمدن کو مزید کم کر دیا ہے۔
آن لائن کاروبار چلانے والے نوید اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بحران کے بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ان کی آمدن پر اثر انداز ہوا ہے۔
وہ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ٹھیک ہے کہ جنگ کی وجہ سے پیٹرول مہنگا ضرور ہوا ہے لیکن حکومت ہم سے پیٹرول پر سیلز ٹیکس اور ڈیوٹی کے علاوہ پیٹرولیم لیوی بھی لیتی ہے، جو بہت زیادہ ہے۔‘
یہ دونوں افراد پاکستان کی تعلیم یافتہ ورکنگ کلاس سے تعلق رکھتے ہیں جنھیں سیلری کلاس یا تنخواہ دار طبقہ کہا جاتا ہے اور انھیں خدشہ ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مزید ٹیکس لگے گا اور ان کی آمدن مہنگائی کی وجہ سے اور سکڑ جائے گی۔
پاکستان میں وفاقی حکومت یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے لیے بجٹ پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے جس میں آئندہ مالی سال کے لیے حکومتی اخراجات اور آمدنی کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔
حکومت ٹیکس سے حاصل رقوم کو اپنے اخراجات کے لیے استعمال کرتی ہے اور آمدن بڑھانے کے لیے ٹیکسوں کی شرح میں ردوبدل کیا جاتا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت خسارے میں کمی کے لیے بنائے جانے والے بجٹ میں مزید ٹیکس عائد کرنے کے خدشات کو تقویت دی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ ٹیکس اُن افراد پر عائد ہو گا جو ابھی بھی ٹیکس کے دائرۂ کار سے باہر ہیں یا پھر انھیں افراد پر مزید بوجھ ڈالا جائے گا جو پہلے سے ٹیکس دیتے ہیں۔
اس سلسلے میں بی بی سی نے عام تنخواہ دار طبقے، کاروباری حضرات اور ماہرین سے بات کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ پاکستان میں حکومت ہمیشہ ٹیکس کی آمدن میں کمی کا گلہ کیوں کرتی ہے۔
پاکستان کے اکنامک سروے کے مطابق ملک میں براہِ راست ٹیکسوں کے مقابلے میں بالواسطہ ٹیکسوں کا تناسب زیادہ ہےپاکستان میں ٹیکس کی آمدن کے اہداف، بیانیہ اور حقائق
گذشتہ کئی دہائیوں سے حکومت پاکستان کی ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح بڑھانا چاہتی ہے لیکن ٹیکس کی شرح بڑھنے کے باوجود بھی پاکستان میں ٹیکسوں سے حاصل آمدن خام ملکی پیداوار کا محض آٹھ سے نو فیصد ہے۔
پاکستان میں مختلف طرح کے براہِ راست جیسے انکم ٹیکس اور ویلتھ ٹیکس اور بالواسطہ ٹیکس جیسے سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹیز وغیرہ عائد ہیں۔ پاکستان کے اکنامک سروے کے مطابق ملک میں براہِ راست ٹیکسوں کے مقابلے میں بالواسطہ ٹیکسوں کا تناسب زیادہ ہے۔
پاکستان میں ٹیکس وصول کرنے والے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2026 کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 14307 ارب روپے مقرر کیا تھا جس کے بعد اس ہدف کو کم کر کے 13979 ارب روپے کیا گیا لیکن رواں مالی سال کے گیارہ ماہ کے دوران 11227 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اب رواں مالی سال کے صرف ایک ماہ کے دوران ایف بی آر کے لیے اپنے مطلوبہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے 2752 ارب روپے کا ٹیکس وصول کرنا بظاہر ناممکن دکھائی دیتا ہے لیکن حکومت پُرامید ہے کہ یہ ہدف پورا کر لیا جائے گا۔
حکومت اپنی آمدن بڑھانے کے لیے نان ٹیکس ریونیو یعنی آمدن بڑھانے کے لیے مختلف فیسیں یا لیویز عائد کرتی ہے جیسے پیٹرول پر عائد پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی یا کاربن لیوی۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران حکومت نے جولائی سے مارچ تک عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1205 ارب روپے وصول کیے اور کاربن لیوی کی مد میں 37 ارب روپے وصول کیے ہیں۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2022 میں پیٹرولیم لیوی سے حاصل آمدن 127.5 ارب روپے تھی جو اب بڑھ کر مالی سال 2024-2025 میں 1220 ارب تک پہنچ گئی۔ یعنی تین برسوں کے دوران حکومت نے فی لیٹر پیٹرول یا ڈیزل پر عائد لیوی کی شرح بڑھا کر اس سے حاصل آمدن میں 857 فیصد اضافہ کیا ہے۔
اقتصادی ماہرین حکومت کی جانب سے آمدن بڑھانے کے ان اقدامات پر تنقید کرتے ہیں۔
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) سے وابستہ ماہر ٹیکسیشن ڈاکٹر اکرام الحق کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے آمدن بڑھانے کے ان اقدامات سے سب سے زیادہ متاثر کم آمدن طبقہ ہوتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری چاہے اُس کی آمدن قابلِ ٹیکس ہے یا نہیں لیکن وہ ٹیکس دے رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’موٹرسائیکل والا اور بڑی گاڑی والے دونوں ہی برابر ٹیکس دے رہے ہیں اور یہ ناانصافی ہے۔‘
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق رواں مالی سال میں مارچ کے اختتام تک پاکستان کے تنخواہ دار طبقے نے 420 سے 425 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا ہے جبکہ اس دوران ریئل اسٹیٹ سیکٹر اور دکانداروں کی جانب سے ملنے والا ٹیکس اس سے کم ہےکیا پاکستان میں ہر شخص ٹیکس دیتا ہے؟
پاکستان میں تنخواہ دار طبقے کو اپنی آمدن پر ودہولڈنگ انکم ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے اور اگر کسی شخص کی ماہانہ زیادہ سے زیادہ تنخواہ 50 ہزار روپے (سالانہ چھ لاکھ روپے) ہے تو اُس پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔
لیکن اس سے اوپر آمدن والے افراد سے ٹیکس کے مختلف سلیب کے تحت 1 فیصد سے 35 فیصد تک ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور ماہانہ تنخواہ میں سے ٹیکس کی رقم کٹنے کے بعد پیسے ملتے ہیں۔
ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کے تنخواہ دار طبقے نے مجموعی طور پر 605 ارب روپے کا ٹیکس دیا تھا۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق رواں مالی سال میں مارچ کے اختتام تک پاکستان کے تنخواہ دار طبقے نے 420 سے 425 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا ہے جبکہ اس دوران ریئل اسٹیٹ سیکٹر اور دکانداروں کی جانب سے ملنے والا ٹیکس اس سے کم ہے۔
اقتصادی ماہر ڈاکٹر اکرام الحق کے مطابق پاکستان کے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح بھی زیادہ ہے اور مہنگائی سے بھی سب سے زیادہ یہی افراد متاثر ہوتے ہیں۔ وہ حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے اس بیانیے سے متفق نہیں ہیں کہ ’پاکستانی عوام ٹیکس نہیں دیتی‘ بلکہ اُن کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کے امیر افراد ٹیکس نہیں دیتے ہیں۔‘
پاکستان میں ہر شہری کے لیے مالی سال کے اختتام پر انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانا ضروری ہے لیکن ایف بی آر کے مطابق گذشتہ سال میں 59 لاکھ افراد نے ٹیکس گوشوارے جمع کروائے ہیں۔
اگرچہ اس تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن غیر دستاویزی یا غیر رسمی معیشت ہونے کے سبب ایک بڑی تعداد ٹیکس نظام سے باہر ہے۔ ڈاکٹر اکرام الحق کے مطابق لوگ ٹیکس نیٹ سے باہر رہنا چاہتے ہیں اور ایف بی آر پہلے سے موجود افراد پر ٹیکس کی شرح بڑھا دیتا ہے یا پھر بالواسطہ ٹیکسز اور ڈیوٹیز سے آمدن حاصل کرتا ہے۔ ماہرین کی رائے میں ان ڈیوٹیز اور لیویز نے عام آدمی کی قوتِ خرید ختم کر دی ہے۔
بڑی صنعتوں کے مالکان یا بڑے کاروباری حضرات بھی عام تنخواہ دار طبقے کی طرح حکومت سے گلہ کر رہے ہیں۔
بجٹ کے اعلان سے قبل بڑی کمپنیوں اور صنعتکاروں پر مشتمل پاکستان بزنس کونسل کے نمائندوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور حکومت کی ٹیکس پالیسی اور کاروبار کے لیے حکومتی سمت جاننے کی کوشش کی۔
اس اجلاس میں شریک پاکستان بزنس کونسل کے رکن اور انٹرلوپ گروپ کے چیئرمین مصدق ذوالقرنین نے بتایا کہ کارپوریٹ سیکٹر پر عائد انکم ٹیکس، سپر ٹیکس اور سالانہ منافع (ڈیویڈنڈ) پر عائد ٹیکس کے سبب انھیں مجموعی طور پر 60 فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے اور ٹیکس کی اتنی زیادہ شرح عائد ہونے سے اُن کے کاروبار بڑھنے کے بجائے سکڑ رہے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مصدق ذوالقرنین نے بتایا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں انھیں بتایا گیا کہ انڈسٹری اور دستاویزی شعبے پر عائد ٹیکس کی بلند شرح کے سبب کاروباری طبقے کے پاس اتنا سرمایہ نہیں بچتا کہ وہ کاروبار کو وسعت دے سکے۔
انھوں نے کہا کہ ’پہلے حکومت اقتصادی استحکام لانے کی کوشش کر رہی تھی، ملک میں اب اقتصادی استحکام ہے لیکن گروتھ کے لیے ٹیکس کا بوجھ کم کرنا ہو گا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’موجودہ جیو پولیٹیکل حالات میں انڈسٹری کے لیے ویسے ہی حالات مشکل ہو گئے ہیں اور پھر پیٹرول پر عائد پی ڈی ایل جیسے ٹیکسز سے عوام اور انڈسٹری پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’موجود حالات میں توانائی کی قیمتیں، ٹیکس پالیسی اور ہائی رسک کے سبب انڈسٹری بہت زیادہ عرصہ ان حالات کو برداشت نہیں کر سکتی ہے کیونکہ جب تک ماحول بہتر نہیں ہو گا، پیداواری شعبے میں سرمایہ کاری نہیں ہو سکتی ہے۔ اس لیے ٹیکس نیٹ کو بڑھانا ہو گا۔‘
ملکی معیشت میں زراعت کا حصہ ایک چوتھائی ہے مگر اسی شعبے سے ملنے والی ٹیکس آمدن نہ ہونے کے برابر ہےآخر ٹیکس نیٹ سے باہر کون ہے؟
پاکستان کی معیشت کا انحصار زراعت پر بھی کافی حد تک ہے اور ملک کی 37 فیصد افرادی قوت زرعی شعبے سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی جی ڈی پی کا 23.5 فیصد زراعت پر مشتمل ہے۔ جہاں ملکی معیشت میں اس شعبے کا حصہ ایک چوتھائی ہے وہیں زراعت کے شعبے سے ملنے والی ٹیکس آمدن نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ پاکستان کے آئین کے تحت زرعی شعبے سے حاصل آمدن پر ٹیکس لینے کا اختیار صوبوں کے پاس ہے اور زرعی پیداوار سے حاصل آمدن ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔
محقق اور ماہرِ اقتصادیات ڈاکٹر اکرام الحق کا کہنا ہے کہ قانون کے تحت ٹیکس سے زراعت کی وہ آمدن ہی مستثنیٰ ہے جو زرعی اجناس کی پیداوار یا کھیتی باڑی سے آتی ہے لیکن اگر کوئی زمیندار اپنی زمین کو کرائے پر یا ٹھیکے پر دیتا ہے اور لاکھوں روپے کا کرایہ لیتا ہے تو اس آمدن پر ٹیکس عائد ہونا چاہیے۔
اُن کے بقول بڑے بڑے زمیندار اس رعایت کو جواز بنا کر ٹیکس ادا نہیں کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ملک میں 65 فیصد زرعی اراضی کی ملکیت ساڑھے چار لاکھ بڑے زمینداروں کے پاس ہے۔ ’حکومت کو چاہیے کہ زرعی آمدن کو ٹیکس نیٹ میں لائے۔‘
پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہے اور آئی ایم ایف کا دباؤ ہے کہ زرعی شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے اور اسی سلسلے میں صوبائی سطح پر قانون سازی بھی ہوئی ہے لیکن ٹیکس نیٹ سے حاصل آمدن بہت کم ہے۔ پاکستان کے سابق وزیرِ خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کی ریسرچ رپورٹ کے مطابق زرعی شعبے سے حاصل ٹیکس آمدن محض 10 ارب روپے ہے۔
زراعت کے علاوہ سروسز سیکٹر اور خاص کر ہول سیل اور ریٹیل یا پرچون دکانداروں کا کاروبار ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ ملک بھر میں رجسٹرڈ سیلز ٹیکس دکانداروں کی تعداد ایک لاکھ 85 ہزار ہے لیکن ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد تقریباً 35 لاکھ ہے۔ حکومت نے کئی بار بڑے شہروں کی بڑی بڑی مارکیٹوں کے دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی لیکن تاجروں کے دباؤ کے سبب سیاسی جماعتوں کو یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے فکسڈ سکیم متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد رجسٹریشن نہ کروانے والے دکانداروں پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے مطابق یہ سکیم اُن دکانداروں پر لاگو ہوگی جن کی سالانہ سیلز 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ہر دکاندار کے لیے کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس جمع کروانا لازمی ہوگا، جبکہ زیادہ ٹرن اوور رکھنے والوں سے ان کی فروخت کے مطابق ایک فیصد فکسڈ ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ ایف بی آر اس سکیم کے تحت سادہ، ایک صفحے پر مشتمل فارم متعارف کروا رہا ہے، جس میں دکاندار اپنی سالانہ فروخت کی تفصیلات درج کریں گے۔
اقتصادی ماہر ڈاکٹر اکرام الحق کے مطابق پاکستان کے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح بھی زیادہ ہے اور مہنگائی سے بھی سب سے زیادہ یہی افراد متاثر ہوتے ہیںٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
آئی ایم ایف، حکومت، صنعتکار اور عوام ہر کوئی ہی ٹیکس بڑھانے یا دیگر افراد سے بھی ٹیکس لینے کی بات تو کرتے ہیں لیکن ابھی بھی بہت بڑی تعداد ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ ایف بی آر کے مطابق تقریباً 8700 افراد کے بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 750 ارب روپے کے کھاتے ہیں لیکن انکم ٹیکس ریٹرن میں انھوں نے اپنی کوئی آمدن ظاہر نہیں کی ہے۔
پاکستان ٹیکس دہندگان کی تنظیم ٹیکس پیئر الائنس آف پاکستان کے کنووینر انور کاشف کے مطابق ملک میں رائج ٹیکس ادا کرنے کا نظام بہت پیچیدہ ہے اور لوگ اسی وجہ سے ایف بی آر کے دائرۂ کار سے باہر رہنا چاہتے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انور کاشف نے بتایا کہ ٹیکس بڑھانے کے لیے سب سے پہلے حکومت کو مختلف ٹیکس ریٹس ختم کرنے چاہییں اور دنیا کے دیگر ممالک کی طرح فلیٹ ریٹ ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ دستیاب معلومات کی ڈیجیٹل میپنگ اور ایڈوانس ماڈلز کی مدد سے ایف بی آر کو چھاپے مارنے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ خودکار نظام ہی ٹیکس چوری اور جعل سازی کی نشاندہی کرے گا۔
انور کاشف کے مطابق دنیا بھر میں ٹیکس جمع کرنے والے ادارے کاروبار بند نہیں ہونے دیتے کیونکہ کاروباری اکاؤنٹس کی مؤثر اور بروقت مانیٹرنگ سے مسائل کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں۔
محقق اور اقتصادی ماہر ڈاکٹر اکرام الحق کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس بات کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ یہ قانون سازی کرنا ہو گی کہ 18 سال سے زیادہ عمر کا ہر شخص اپنا ٹیکس گوشوارہ جمع کروائے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو مختلف شعبوں پر ٹیکس پر دی جانے والی چھوٹ بھی ختم کرنا ہو گی اور زرعی شعبے کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا۔
پاکستان بزنس فورم کے رکن مصدق ذوالقرنین کا کہنا ہے کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو بڑھانا چاہتی ہے لیکن حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا وہ کاروباری سرمائے سے صنعتوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے تاکہ برآمدات بڑھائیں یا پھر وہ یہ چاہتی ہے کہ یہی رقم رئیل اسٹیٹ میں چلی جائے کیونکہ قدرتی طور پر سرمایہ ان شعبوں میں زیادہ آتا ہے جہاں کاروباری لاگت کم اور آمدن زیادہ ہو۔
انھوں نے کہا کہ غیر دستاویزی معیشت میں کیش (نقدی) کی سرکولیشن 11000 ارب روپے ہے جس میں ٹیکس کی چوری 4000 سے 5000 ارب روپے ہے۔ اگر حکومت اپنے ٹیکس قوانین کو آسان بنا کر اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کرے تو 1500 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کر سکتی ہے اور اس رقم سے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا جا سکتا ہے۔
زینب، نوید جیسے عام شہری ہوں یا پھر مصدق ذوالقرنین جیسے پاکستان کے بڑے صنعتکار، اُنھیں اس بجٹ میں کسی بڑے ریلیف کی توقع نہیں ہے لیکن وہ یہ اُمید ضرور رکھتے ہیں کہ حکومت اپنے کچھ اقدامات سے اُن جیسے ٹیکس دہندگان کی ہمت اور حالات میں بہتری کی اُمید کو برقرار رکھے۔