حکومت نے سرکاری ملازمین کی دوہری شہریت اور غیر ملکی وابستگیوں سے متعلق اہم پالیسی پر عملدرآمد شروع کرتے ہوئے سول سرونٹس کو اپنی دوہری شہریت کی تفصیلات تین ماہ کے اندر ظاہر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے فارن نیشنلٹی رولز 2026 پر باضابطہ عملدرآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ دوہری شہریت سے متعلق ڈیکلریشن فارم تیار کر کے تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو ارسال کردیا گیا ہے۔
آفس میمورنڈم کے مطابق سرکاری افسران کو اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی غیر ملکی وابستگیوں کی مکمل تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ اس میں غیر ملکی شہریت، پاسپورٹ اور مستقل رہائش سے متعلق معلومات دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ہدایات میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین اپنے شریکِ حیات اور زیر کفالت بچوں کی شہریت کی تفصیلات بھی ظاہر کرنے کے پابند ہوں گے، جبکہ غیر ملکی امیگریشن اسٹیٹس اور سفری دستاویزات کی معلومات بھی فراہم کرنا ضروری ہوں گی۔
میمورنڈم کے مطابق حقائق چھپانے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ مزید یہ کہ ایف بی آر کے کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو افسران کو 8 جولائی تک اپنے ڈیکلریشن جمع کرانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
آفس میمورنڈم میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جون کو جاری کیے گئے رولز 2026 کے تحت نئی ڈسکلوزر پالیسی نافذ العمل ہے، جس کے تحت غیر ملکی شہریت حاصل کرنے یا امیگریشن پروگرامز میں شمولیت سے متعلق معلومات فراہم کرنا بھی لازمی ہوگا۔