’بچپن سے ہی اسلام کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا‘: انڈیا میں مذہب تبدیل کرنے والے نوجوان کی اہلیہ اور سسر کو کیوں گرفتار کیا گیا؟

محمد علی کے والد الزام عائد کرتے ہیں کہ ان کے بیٹے کو ڈرایا گیا لیکن محمد علی کا کہنا ہے کہ انھیں کسی کا خوف نہیں۔ ’میں حق کے راستے پر ہوں، مجھے کسی کا کوئی ڈر نہیں۔‘

’دستاویزات میں میرا نام آیُش ملک درج ہے جبکہ اب میں محمد علی کے نام سے جانا جاتا ہوں۔ میں بچپن سے ہی اسلام کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ سنہ 2013 میں میری دلچسپی مزید بڑھ گئی اور میں اسلامی کلچر اپنانے لگا۔‘

یہ الفاظ انڈین ریاست اترپردیش کے ضلع شاملی کے ادویات فروش آیُش ملک کے ہیں، جو اب خود کو محمد علی کہتے ہیں۔ انھوں نے یہ بات اپنی اہلیہ چاندنی قریشی اور سسُر اسلام قریشی کی گرفتاری کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہی۔

پولیس نے چاندنی قریشی اور اسلام قریشی کو مبینہ طور پر محمد علی کا جبری طور پر مذہب تبدیل کروانے کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

چاندنی اور اسلام قریشی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے پولیس سپرنٹنڈنٹ نریندر پرتاپ سنگھ نے میڈیا کو بتایا ’جائیداد حاصل کرنے کی غرض سے مبینہ سازش کے تحت مذہب تبدیل کروانے کے الزام میں چاندنی اور اس کے والد کو گرفتار کیا گیا۔ اس مقدمے میں مزید کئی افراد کو بھی نامزد کیا گیا۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف ’سخت ترین کارروائی کرے گی تاہم محمد علی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ چاندنی ان کی قانونی اہلیہ ہیں اور انھوں نے اپنی مرضی سے نکاح کیا۔

اسلام قبول کرنے کا اعتراف

محمد علی کے والد الزام عائد کرتے ہیں کہ ان کے بیٹے کو ڈرایا گیا لیکن محمد علی کا کہنا ہے کہ انھیں کسی کا خوف نہیں۔ ’میں حق کے راستے پر ہوں، مجھے کسی کا کوئی ڈر نہیں۔‘

جب محمد علی سے اسلام قبول کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’میں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور آئین مجھے اس کی اجازت دیتا ہے۔‘

چاندنی سے شادی اور پہلی ملاقات کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ’میری فزیوتھراپی سینٹر میں چاندنی سے ملاقات ہوئی۔ میں نے نکاح کی پیشکش کی لیکن ابتدا میں وہ تیار نہیں تھیں۔ جب وہ آمادہ ہوئیں اور نکاح ہوا تو حالات اس قدر خراب ہو گئے کہ وہ آج جیل میں ہیں۔‘

چاندنی کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے محمد علی نے کہا کہ ’میں اپنی بیوی کے ساتھ نہیں رہتا، میں اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہا تھا۔ چاندنی اور میں ایک ساتھ رہنا چاہتے تھے اور بچے پیدا کرنا چاہتے تھے لیکن حالات اب سنگین ہو گئے ہیں، یہاں تک کہ اسے جیل بھیج دیا گیا۔‘

جب صحافیوں نے محمد علی سے پوچھا کہ وہ اپنی بیوی یا اپنے خاندان میں سے کس کو اپنائیں گے تو انھوں نے جواب دیا کہ ’دونوں ہی میرے خاندان ہیں، میں اپنے رشتہ داروں اور اپنی بیوی دونوں کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں۔ اگر میرا خاندان مجھ سے الگ ہونے کا انتخاب کرتا ہے تو ہو جائے لیکن میں خود کو اپنے خاندان سے الگ نہیں کروں گا۔‘

محمد علی نے کہا کہ ’میں نے مذہب کی تبدیلی کے بارے میں اپنے اہلخانہ کو کبھی نہیں بتایا۔ میں نے ان سے اپنی مذہبی شناخت چھپائی۔ فروری میں ہی میں نے انھیں بتایا کہ میں اسلام پر عمل پیرا ہوں۔‘

10 افراد کے خلاف مقدمہ درج

پولیس نے 6 جون کو محمد علی کے والد دیوراج ملک کی شکایت پر مقدمہ درج کیا۔

پولیس نے اس مقدمے میں محمد علی کی اہلیہ چاندنی قریشی کے علاوہ نو نامزد افراد اور ایک نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ اس میں چاندنی کے اہلِخانہ کے علاوہ ایک مولوی کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔

ایس پی نریندر پرتاپ سنگھ کا کہنا ہے کہ ’تقریباً 30 سالہ آیُش ایک خوشحال خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد دیوراج ملک شہر کے بڑے دوا فروش ہیں۔ آیُش اپنے چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے اور واحد بیٹے ہیں۔‘

پولیس کے مطابق دیوراج ملک نے شکایت میں کہا کہ ’ان کے بیٹے کو ان کی جائیداد ہتھیانے کے مقصد سے چاندنی قریشی کے ذریعے سازش کے تحت پھنسایا گیا اور اس کا مذہب تبدیل کرایا گیا۔‘

دیوراج ملک نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’آیُش اور چاندنی کا جعلی نکاح نامہ تقریباً چار سال قبل تیار کیا گیا تھا۔‘

پولیس اس دستاویز کی بھی جانچ کر رہی ہے جبکہ محمد علی نے واضح کیا کہ نکاح ان کی مرضی سے ہوا۔

ادھر اس معاملے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد چاندنی قریشی کا خاندان خوف کے باعث زیادہ تر اپنے گھر سے باہر رہ رہا ہے۔

ان کے چچا فرمان علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے بھائی پھلوں کے تاجر ہیں اور ان کی بیٹی فزیوتھراپیسٹ ہے۔ محمد علی نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا اور شادی کی پیشکش بھی خود ہی کی۔ پولیس یکطرفہ کارروائی کر رہی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تو حقیقت سامنے آ جائے گی کہ مذہب کی تبدیلی مرضی سے تھی یا نہیں۔‘

دوسری جانب محمد علی کے والد دیوراج ملک کا کہنا ہے کہ ’ہمیں پولیس تحقیقات پر مکمل اعتماد ہے اور سچ ضرور سامنے آئے گا۔‘

کن دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا؟

پولیس نے اس معاملے میں درج ایف آئی آر میں دھوکہ دہی، جعل سازی، جعلی دستاویز کے استعمال، مجرمانہ سازش، دھمکی اور ناجائز دباؤ کے ذریعے مالی فائدہ حاصل کرنے سے متعلق دفعات عائد کی ہیں۔

پولیس کا مؤقف ہے کہ مذہب کی تبدیلی اور نکاح ایک منظم سازش کا حصہ تھے جبکہ محمد علی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور نکاح کیا۔

انڈین آئین ہر شہری کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق دیتا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 25 تا 28 مذہبی آزادی کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کرتے ہیں تاہم آئین ریاست کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ جہاں مذہب کے نام پر جبر، دھوکہ یا غیر قانونی طریقے استعمال کیے جائیں، وہاں مداخلت کرے۔

فی الحال اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور یہ طے ہونا باقی ہے کہ تبدیلی مذہب رضامندی سے ہوئی یا کسی سازش کا نتیجہ تھی۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US