ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’بات چیت اور حتمی نکات، تصوراتی اور تفصیلی دونوں سطحوں پر، تمام متعلقہ فریقوں کی جانب سے منظور کر لیے گئے ہیں، جن میں امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی، پاکستان، بحرین، کویت، اردن، مصر اور دیگر شامل ہیں۔‘
- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی ایران کی اعلی ترین قیادت سے منظوری کے بعد وہ ایران کے خلاف آج کے طے شدہ حملے اور بمباری منسوخ کر رہے ہیں۔
- ایران کی جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف مزید حملے کرنے کی کوشش کی تو اسے 'پہلے سے کہیں زیادہ سخت' جواب دیا جائے گا۔
- ایران نے امریکی صدر کے اس دعوے کی تردید کی ہے جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ ایران کی درخواست پر حملے روکے گئے ہیں۔
- امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
- ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ’بار بار ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں‘ کے بعد جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے سفارتی مذاکرات کے مستقبل کا ازسرِ نو جائزہ لے رہا ہے۔
’دستخط کے وقت اور مقام کا اعلان جلد کیا جائے گا‘: امریکی صدر کا ایران پر حملے منسوخ کرنے کا اعلان، معاہدے پر پہنچنے کا عندیہ