وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف اپنے قائد کی رہائی کے لیے احتجاج کرنا چاہتی ہے تو ضرور کرے، تاہم ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے یا انہیں بے توقیر کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں صدر آصف علی زرداری، نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز اور دیگر رہنماؤں نے بھی سزائیں بھگتیں، لیکن کبھی نظام کو داؤ پر نہیں لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سوا دو سال سے تحریک انصاف کی تمام سیاسی سرگرمیوں کا محور صرف ایک شخص کی رہائی رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے اراکین ایوان کی کارروائی میں مؤثر انداز میں حصہ نہیں لیتے اور ایک فرد کی خاطر ریاستی اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو مناسب طرز عمل نہیں۔
آزاد کشمیر سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ آزاد کشمیر کے لفظ ”آزاد“ کا تحفظ پاکستان کی بدولت ممکن ہے اور اس خطے کے لیے پورے ملک نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 25 کروڑ پاکستانیوں کے کشمیر سے وابستہ مفادات ہیں جبکہ لاکھوں کشمیری مہاجرین نے قربانیاں دی ہیں، اس لیے ایسے معاملات پر قومی مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اگر کسی معاملے پر اختلاف ہے تو اسے انتخابات میں عوام کے سامنے لے جایا جائے تاکہ فیصلہ ووٹر کریں، تاہم قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی صورت میں ریاست خاموش نہیں رہ سکتی۔