جمعرات کو ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’مستقبل قریب میں کسی بھی وقت ہم خارگ جزیرے اور آئل انفراسٹرکچر کے دیگر اہم مقامات اور اس کی تیل و گیس کی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لیں گے، بالکل اسی طرح جیسے ہم نے وینزویلا کے ساتھ کیا ہے۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید ’سخت‘ حملوں کا اعلان کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ امریکہ ’مستقبلِ قریب‘ میں ایران کے خارح جزیرے کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے۔
جمعرات کو ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’مستقبل قریب میں کسی بھی وقت ہم خارگ جزیرے اور آئل انفراسٹرکچر کے دیگر اہم مقامات اور اس کی تیل و گیس کی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لیں گے، بالکل اسی طرح جیسے ہم نے وینزویلا کے ساتھ کیا ہے۔‘
ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ صدر ٹرمپ نے خارگ جزیرے پر قبضے کی خواہش کا اظہار کیا ہو۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ’ایران کا تیل لے سکتے ہیں‘ اور ملک میں تیل کے بڑے مرکز خارگ جزیرے پر قبضہ بھی کر سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’سچ یہ ہے کہ میرا پسندیدہ آپشن یہ ہے کہ ایران کا تیل لے لیا جائے لیکن امریکہ میں کچھ بیوقوف لوگ کہتے ہیں ’آپ ایسا کیوں کریں گے؟‘ وہ بیوقوف لوگ ہیں۔‘
خارگ جزیرہ ایران کے تیل کے سب سے بڑے ذخائر کا مرکز ہے اور ایرانی خام تیل کی 90 فیصد برآمدات اسی چھوٹے سے جزیرے سے ہوتی ہیں۔
گذشتہ برس جون میں 12 روزہ جنگ سے قبل یہ جزیرہ بھی اسرائیل کے ممکنہ اہداف میں شامل تھا۔
یہ جزیرہ اُس وقت خبروں میں آیا جب اسرائیل کے سابق وزیر اعظم اور ملک میں حزب اختلاف کے مرکزی رہنما یائر لیپڈ نے ایران کی تیل تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کے بعد ایکس پر لکھا کہ ’اسرائیل کو جزیرہ خارگ پر ایران کی تمام آئل فیلڈز اور توانائی کی صنعت کو تباہ کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے ایران کی معیشت تباہ ہو جائے گی اور حکومت کا تختہ اُلٹ جائے گا۔‘
چالیس سال قبل ایران-عراق جنگ کے دوران گارڈین اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے امریکی ٹھکانوں پر حملہ کیا تو جزیرہ خارگ پر قبضہ کر لیا جائے گا۔
یہ وہ وقت تھا، جب ٹرمپ نے سیاست میں قدم نہیں رکھا تھا اور اُنھوں نے ایک کاروباری شخصیت کے طور پر یہ انٹرویو دیا تھا۔
اس انٹرویو میں ٹرمپ نے سنہ 1980 سے 1988 کے دوران جاری رہنے والی ایران-عراق جنگ پر تبصرہ کیا تھا۔ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ اگر وہ صدر بنے تو ایران کے ساتھ کیا کریں گے؟ اس پر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’میں ایران پر سختی کروں گا۔ وہ ہمیں نفسیاتی طور پر مار رہے ہیں، وہ ہمیں احمق سمجھتے ہیں۔ اگر اُنھوں نے ہمارے کسی جہاز پر ایک بھی گولی چلائی تو میں ان کے جزیرے خارگ پر قبضہ کر لوں گا۔‘
ہرنوں کا جزیرہ اور تیل کی سہولیات
ایران کے جنوب مغرب میں واقع جزیرہ خارگ 20 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور یہ صوبہ بوشہر کا حصہ ہے۔ یہاں کی خاص بات تیل کی تنصیبات کے ساتھ ساتھ ہرنوں کی بڑی تعداد بھی ہے، جو اس جزیرے میں جابجا گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ جزیرہ ہرنوں کے رہنے اور افزائش نسل کے موزوں سمجھا جاتا ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ہرنوں کی تعداد جزیرے کی گنجائش سے بھی بڑھ گئی ہے۔
یہ جزیرہ ایران کی تیل کی برآمدات کے لحاظ سے بہت اہم ہے اور تیل کی برآمدات کا بڑا ٹرمینل بھی یہاں موجود ہے۔
خارگ کو خام تیل کی برآمد اور لوڈنگ کے لیے سب سے موزوں مقام سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کی ملک کے جنوبی تیل سے مالا مال خطوں سے قربت، اچھی بحری جگہ، بڑے آئل ٹینکرز کے لنگر انداز ہونے کے لیے گہرے پانی جیسی سہولیات ہیں۔
ایرانی تیل کا سب سے بڑا آف شور ابو زر آئل کمپلیکس خارگ سے 75 کلو میٹر مغرب میں واقع ہے۔ خلیج فارس میں ایرانی تیل کی زیادہ تر پیداوار اسی آئل فیلڈ سے ہوتی ہے۔
ابوزر آئل فیلڈ تین اہم آپریٹنگ پلیٹ فارمز پر مشتمل ہے، ہر ایک کی پیداواری صلاحیت 80 ہزار بیرل یومیہ ہے۔ ابو زر آئل پروسیسنگ پلانٹ بھی جزیرہ خارگ میں واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جزیرہ خارگ ایران میں تیل ذخیرہ کرنے کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک ہے۔

ایرانی آئل ٹرمینلز کمپنی کے مطابق خارگ میں خام تیل ذخیرہ کرنے کے 40 ٹینکس ہیں جہاں دو کروڑ بیرل سے زیادہ تیل رکھا جا سکتا ہے۔ ملک کے جنوب میں تکل کی دولت سے مالا مال علاقوں سے نکالا جانے والا خام تیل زیرِ سمندر پائپ لائنز کے ذریعے خارگ سٹوریج ٹینکوں میں داخل ہوتا ہے۔
دسمبر 2023 میں ایران کے آئل ٹرمینلز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عباس غریبی نے جزیرہ خارگ پر خام تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں 20 لاکھ بیرل اضافے کا اعلان کیا تھا۔
خام تیل ذخیرہ کرنے کے علاوہ خارگ میں برآمد کے لیے خام تیل کی اقسام کی پیمائش اور انھیں الگ کرنے کا عمل بھی کیا جاتا ہے۔
جب تک امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ ایران کا جوہری معاہدہ برقرار تھا تو ایران کو اس معاہدے کے تحت اپنی تیل کی پیداوار بڑھانے اور اسے مختصر مدت کے لیے فروخت کرنے کی بھی اجازت دی گئی تھی۔۔ اس معاہدے کے دوران ایران نے تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کو بھی بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
لیکن جزیرہ خارگ میں محدود زمین ہے اور اس کا موسم اکثر طوفانی اور خراب رہتا ہے۔ اس لیے 2016 میں ایک کروڑ بیرل کی گنجائش کے ساتھ اومڈ خام تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا۔ یہ علاقہ صوبہ بوشہر سے 23 کلو میٹر دُور ہے۔
لیبارٹری اور یونیورسٹی
اومڈ خام تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینک نجی شعبے میں تیل کے ٹینکوں کا سب سے بڑا ذخیرہ بتایا جاتا ہے۔
جزیرے کے مشرق اور مغرب میں خارگ کے دو گھاٹ ہیں۔ سنہ 1955 میں، تیل کنسورشیم کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد خارگ میں لوڈنگ ڈاکس اور خام تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کی تعمیر کا منصوبہ شروع ہوا۔
خارگ میں خام تیل کا معیار جانچنے کے لیے ایک لیبارٹری بھی ہے۔ یہ لیبارٹری بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ ایرانی آئل ٹرمینلز آرگنائزیشن کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کی بہترین لیبارٹریز میں سے ایک ہے۔
خارگ پیٹرو کیمیکل کمپنی بھی اس جزیرے میں کام کرتی ہے جس کا مقصد تیل نکالنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گیسوں کو جلنے سے روکنا اور اںھیں قیمتی مصنوعات میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ کمپنی میتھانول، سلفر، پروپین، بیوٹین، اور نیفتھا (پٹرول) بھی بناتی ہے۔
صرف آٹھ ہزار سے زائد آبادی والے خارگ میں اسلامی آزاد یونیورسٹی بھی ہے جو میرین سائنس اور آرٹس کی ایک شاخ ہے۔ اس یونیورسٹی میں مطالعہ کے سب سے اہم شعبوں میں سے ایک پیٹرولیم اور سمندری مطالعہ بھی ہے۔
ایران عراق جنگ کے دوران ایران کی تیل کی 90 فیصد سے زیادہ برآمدات خارگ کے راستے ہوتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ عراق نے اس چھوٹے سے جزیرے پر 2800 بار حملہ کیا۔