پاکستانی کرکٹ کے ’دوست‘ قمر احمد چل بسے: ’دلچسپ واقعات کا ٹائٹینک ڈوب گیا‘

قمر احمد کے پاس کتابوں کا بیش قیمت خزانہ موجود رہا جسے انھوں نے سنبھال کر رکھا لیکن سب سے قیمتی خرانہ ان کے ذہن میں محفوظ ماضی کی یادیں اور ان گنت واقعات تھے جو89 سال کی عمر میں بھی ان کی زبردست یادداشت کی وجہ سے تروتازہ تھے۔

یہ فروری 1980 کی بات ہے جب آسٹریلوی کرکٹ ٹیم گریگ چیپل کی قیادت میں پاکستان آئی ہوئی تھی۔ میری اپنے کالج کے ایک ساتھی سے اس بات پر بحث چھڑ گئی کہ کرکٹر میگزین اردو اور انگریزی میں گریگ چیپل کی وکٹوں کی تعداد مختلف چھپی ہوئی ہے۔ اس میں کونسی صحیح ہے؟ اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے ہم دونوں دوست کرکٹر میگزین کے دفتر پہنچ گئے۔

ہمیں بتایا گیا کہ کرکٹ رائٹر قمر احمد لندن سے آئے ہوئے ہیں وہی آپ کو درست جواب بتا سکیں گے۔ کرکٹر میگزین کے منیجنگ ایڈیٹر ریاض احمد منصوری کے کمرے میں یہ میری قمر احمد سے پہلی ملاقات تھی جس کے بعد ان سے ایک ایسا تعلق قائم ہو گیا جو ان کی وفات تک قائم رہا۔

قمر احمد صحافی، مصنف اور براڈ کاسٹر تھے۔ وہ فرسٹ کلاس کرکٹر بھی تھے لیکن سب سے بڑھ کر وہ ایک زندہ دل انسان تھے۔

ہماری نسل کے سپورٹس صحافیوں کو ان سے بہت کچھ سیکھنے کا ملا۔ انھوں نے کبھی بھی جونیئرز سے فاصلہ نہیں رکھا بلکہ ہمیشہ ان کی رہنمائی کی اور صحافت کے بنیادی اصول بتاتے اور سکھاتے رہتے۔

میرے علاوہ شاہد ہاشمی، سمیع برنی، وحید خان، رضوان علی جوجی، ماجد بھٹی اور احسان قریشی، وہ صحافی ہیں جنھوں نے قمر احمد کے ساتھ کرکٹ کوریج کے سلسلے میں کافی ٹورز کیے اور ان کی موجودگی کو ہمیشہ اپنے لیے فائدہ مند پایا۔

قمر احمد اپنے وسیع حلقۂ احباب میں ’قمر بھائی‘ اور ’کیو‘ کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔ کئی غیر ملکی کرکٹرز سے ان کی دوستیاں تھیں جن میں ڈاکٹرعلی باقر، ویوین رچرڈز، مائیکل ہولڈنگ، ڈیوڈ گاور اور سنیل گاوسکر قابل ذکر ہیں۔

قمر احمد کے پاس کتابوں کا بیش قیمت خزانہ موجود رہا جسے انھوں نے سنبھال کر رکھا لیکن سب سے قیمتی خرانہ ان کے ذہن میں محفوظ ماضی کی یادیں اور ان گنت واقعات تھے جو89 سال کی عمر میں بھی ان کی زبردست یادداشت کی وجہ سے تروتازہ تھے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب محمد کہتے ہیں کہ ان یادوں اور واقعات سے بھرا ہوا ٹائٹینک اب ڈوب گیا۔

قمر احمد کا لندن میں فلیٹ کرکٹرز کا مشہور ٹھکانہ

قمر احمد نے لندن میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے بعد شیپرڈ بش میں اپنے فلیٹ میں ایک طویل عرصہ گزارا۔ یہ فلیٹ درحقیقت پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔

آج ستر کی دہائی کے کسی بھی کرکٹر سے پوچھیں تو وہ یہ دلچسپ بات بتائے گا کہ جب وہ انگلینڈ میں لیگ یا کاؤنٹی کرکٹ کھیلا کرتا تھا تو اس نے قمر احمد کے فلیٹ میں ضرور قیام کیا۔

جاوید میانداد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ’قمر بھائی نے مجھے ہمیشہ چھوٹے بھائی یا بیٹے کی طرحپیار دیا۔ مجھے جب بھی ضرورت محسوس ہوئی میں نے ان سے مشورے کیے۔ ہم جب انگلینڈ میں کاؤنٹی کھیلا کرتے تھے تو قمربھائی اپنے فلیٹ کی چابیاں دے کر ہمارے حوالے کرکے خود کوریج کے لیے کہیں نہ کہیں نکل جاتے تھے اور ہم مزے سے فلیٹ میں رہتے تھے۔‘

سرفراز نواز کہتے ہیں ’کاؤنٹی سیزن میں جب بھی لندن آنا ہوتا تو ہمارا ٹھکانہ کہیں اور نہیں بلکہ قمر احمد کا فلیٹ ہوا کرتا تھا۔ کرکٹرز میں سب سے پہلے کیو سے میری دوستی ہوئی۔ وہ انتہائی نفیس انسان تھے جن کے ساتھ میں نے بہت اچھا وقت گزارا۔‘

سرفراز نواز کہتے ہیں کہ ’ایک ہفتے پہلے ہی قمر احمد نے مجھے میری کتاب کے لیے مضمون بھیجا تھا جو جلد شائع ہونے والی ہے۔ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ آخر وقت تک متحرک اور مصروف رہے لیکن اچانک ہارٹ اٹیک اور اسٹنٹ ڈلنے کے بعد وہ سنبھل نہ سکے ۔‘

ظہیر عباس وہ کرکٹر ہیں جن کی قمر احمد کے ساتھ سب سے گہری دوستی رہی۔

ظہیر عباس بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’قمر نے میرا کریئر کور کیا لیکن صحافی اور کرکٹر سے ہٹ کرہماری ایسی دوستی تھی کہ کوئی دن ایسا نہیں جاتا تھا کہ ہم ایک دوسرے کا حال احوال معلوم نہ کریں۔ لندن اور کراچی میں ہمارا ملنا معمول تھا۔ ان کی موجودگی اور دلچسپ واقعات سے وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔ اینجو پلاسٹی کے بعد ان سے میرا رابطہ ہوا تھا اور اس وقت قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ وہ ہمیں چھوڑ کر جانے والے ہیں۔‘

قمر احمد بتاتے تھے کہ انھوں نے پاکستان میں ایک نیوز ایجنسی کی 100 روپے تنخواہ والی نوکری چھوڑی اور پی آئی اے کا یکطرفہ ٹکٹ خرید کر لندن کی راہ لی تھی جو اس وقت 1787 روپے کا تھا۔

وہ یہ واقعہ بھی سناتے تھے کہ لندن پہنچنے کے بعد انھوں نے ایک دوست کے کہنے پر ایک پاؤنڈ کی شرط لگائی تھی کہ محمد علی باکسر سونی لسٹن کو ہرا دیں گے اور ملکہ برطانیہ کا بیٹا پیدا ہو گا۔ وہ یہ دونوں شرطیں جیت گئے جس پر انھیں اچھی خاصی رقم ملی تھی۔

قمر احمد کا پہلا شوق کرکٹ نہیں بلکہ فٹبال تھا اور وہ بتاتے تھے کہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ انھوں نے لندن میں رہتے ہوئے سنہ 1966 کے فٹبال ورلڈ کپ کا فائنل ویمبلے میں دیکھا تھا۔

یہی نہیں بلکہ اسی ٹورنامنٹ کے دوران انھیں برازیلین فٹبالر پیلے کو پیکیڈلی سرکس میں کپڑوں کی دکان میں بہت قریب سے بھی دیکھنے کا موقع ملا تھا جہاں وہ شاپنگ کے لیے آئے ہوئے تھے۔

تین بھائیوں کو آؤٹ کرنے والے بولر

پاکستان کرکٹ ٹیم کے مینیجر معین خان (دائیں) نے سینئر صحافی قمر احمد (بائیں) کو پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے افتتاحی دن کے موقع پر شارجہ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، متحدہ عرب امارات میں 16 جنوری 2014 کو ایک تحفہ پیش کیا۔
Getty Images
پاکستان کرکٹ ٹیم کے مینیجر معین خان (دائیں) نے سینیئر صحافی قمر احمد (بائیں) کو پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے افتتاحی دن کے موقع پر ایک تحفہ پیش کیا

قمر احمد نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں سندھ اور حیدرآباد کی ٹیموں کی نمائندگی کی، چونکہ اس زمانے میں سندھ کی ٹیم زیادہ مضبوط نہیں ہوا کرتی تھی لہذا وہ فائنل تک نہیں پہنچ پاتی تھی اس کے باوجود قمر احمد نے اس دور میں حنیف محمد، مشتاق محمد اور صادق محمد کو فرسٹ کلاس میچوں میں آؤٹ کیا۔

قمر احمد کو اس بات کا زندگی بھر افسوس رہا کہ انھیں 58-1957 میں ویسٹ انڈیز کے دورے کے لیے سلیکٹ نہیں کیا گیا حالانکہ انھوں نے نیشنل سٹیڈیم میں ہونے والے ٹرائل میچ میں آٹھ وکٹیں حاصل کی تھیں۔

اداکار محمد علی اور اعجاز سے دوستی

اداکار محمد علی قمر احمد کے لیے منّا تھے اور وہ محمد علی کو ہمیشہ مّنا کہہ کر ہی بلاتے تھے۔ یہ دونوں حیدرآباد میں بچپن کے دوست تھے۔

قمر احمد کی اداکار اعجاز سے بھی گہری دوستی تھی۔ ان دونوں کا ایک دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ دونوں نے 1973 میں بذریعہ کار اور کہیں کہیں فیری کے ذریعےلندن سے راولپنڈی کا سفر کیا تھا جس کا ذکر قمر احمد نے اپنی کتاب میں بھی کیا۔

قمر احمد نےبی بی سی اردو اور ہندی کے علاوہ بین الاقوامی نیوز ایجنسیز اور اخبارات کے لیے بھی رپورٹنگ کی۔ وہ اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ میں ایک آزاد بندہ ہوں، اسی لیے کسی کی ملازمت نہیں کی بلکہ فری لانس صحافت کی۔

انھوں نے حنیف محمد اور وقار حسن کی سوانح حیات میں ان دونوں کی بھرپور معاونت کی اور پھر اپنی کتاب ’فار مور دین اے گیم‘ (Far More Than A Game‘) بھی لکھی ۔

مینڈیلا اور بریڈمین سے ملاقات

قمر احمد ان چند سینیئر صحافیوں میں شامل ہیں جنھیں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے کے دوران متعدد اہم شخصیات سے ملنے کا موقع بھی ملا جن میں نیلسن مینڈیلا اور سر ڈان بریڈ مین بھی شامل ہیں ۔ وہ بڑے فخر سے ان دونوں ملاقاتوں کے بارے میں سب کو بتاتے تھے۔

قمر احمد کے لیے وہ لمحہ حیران کن تھا جب وہ 84-1983 کے دورۂ آسٹریلیا میں ٹیسٹ سیریز کی کوریج کے لیے موجود تھے اور اس دوران منیجر انتخاب عالم نے ان سے درخواست کی کہ چونکہ ٹیم میں کوئی لیفٹ آرم سپنر نہیں اس لیے آپ نیٹ میں آ کر پاکستانی بلے بازوں کو بولنگ کریں تاکہ ان کی پریکٹس ہو سکے۔

قمر بھائی کا سب سے دلچسپ مشغلہ خود کھانا پکانا تھا۔ وہ اپنے مہمانوں کو اپنے ہاتھ سے پکا ہوا کھانا کھلا کر بہت خوش ہوتے تھے اور اس حوالے سے نیوزی لینڈ کے دورے میں مرغیاں ذبح کرنے کا ایک واقعہ بھی بہت مشہور رہا۔

وہ بتاتے تھے ’میں نیوزی لینڈ کے شہر نیپئر میں انڈیا اور نیوزی لینڈ ٹیسٹ میچ میں ٹی وی کمنٹیٹر تھا کہ اس دوران ایک انڈین آرتھو پیڈک سرجن نے میرےپاس آ کر درخواست کی کہ انھوں نے انڈین ٹیم کو ڈنر پر مدعو کیا ہے لیکن ان کے مسلمان کپتان اظہرالدین نے شرط رکھ دی ہے کہ اگر حلال چکن ہو گی تو وہ آئیں گے ورنہ نہیں۔ وہ سرجن اپنی گاڑی کے بوٹ میں دو مرغیاں رکھ کر لائے تھے کہ کوئی مسلمان مل جائے تو اس کے ہاتھ سے وہ ذبح کرا لیں۔ میں نے پہلے تو انکار کیا لیکن پھر مرغیاں ذبح کرنے پر راضی ہو گیا اور خاموشی سے سرجن کے ساتھ جا کر گراؤنڈ کے باہر کھڑی گاڑی میں دونوں مرغیاں ذبح کردیں۔ اظہرالدین کے لیے بھی یہ بات حیران کن تھی کہ یہ ذمہ داری میں نے کیسےنبھائی۔‘

سوشل میڈیا پر ان کی وفات کی خبر کے بعد صحافیوں اور کرکٹرز نے دکھ اور ان کے لیے عقیدت کا اظہار کیا۔

فخر عالم نے ایکس پر لکھا کہ ’ایک شاندار انسان اور عظیم کرکٹ و سپورٹس صحافی کی وفات کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا۔ وہ بہت مہربان اور نرم دل انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔‘

ڈاکٹر نعمان نیاز نے ایک مفصل پوسٹ میں ان سے ملاقات کا احوال لکھا اورکہا ’یہ میری بڑی خوش قسمتی تھی کہ مجھے ان کے ساتھ ملک اور بیرونِ ملک کئی بین الاقوامی میچز کی کوریج کرنے اور برسوں تک متعدد ٹیلی وژن پروگراموں میں کام کرنے کا موقع ملا۔‘

’وہ کرکٹ کے سینئر اور باوقار رہنما تھے، اپنی شخصیت اور وضع قطع کا خاص خیال رکھنے والے، سادہ اور بے تکلف ذوق کے حامل اور ہم میں سے بہت سوں کی بے لوث رہنمائی کرنے والے تھے۔ ان کی شخصیت کا اثر ان سب لوگوں پر بے حد گہرا تھا جو انھیں جانتے تھے۔‘

سینیئر صحافی مظہر عباس نے ایکس پر لکھا کہ ’قمر احمد نہ صرف ایک ممتاز سپورٹس صحافی تھے جنھوں نے ریکارڈ 450 ٹیسٹ میچز کی کوریج کی بلکہ ایک بہترین انسان بھی تھے۔ چند ماہ قبل انھوں نے مجھ سے اپنی آنے والی کتاب کے لیے کسی بھی سپورٹس کہانی پر مضمون لکھنے کو کہا جس کی میں نے کوریج کی ہو۔ چند دن پہلے انھوں نے مجھے بتایا کہ ان کی کتاب تقریباً مکمل ہو چکی اور ایک ماہ کے اندر مارکیٹ میں آ جائے گی۔ ہم آپ کو یاد کریں گے، قمر بھائی۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US