برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے استعفیٰ کی وجہ کیا تھی؟

برطانوی تاریخ کی سب سے بڑی انتخابی فتوحات میں سے ایک حاصل کرنے کے دو سال سے بھی کم عرصے بعد برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹامر کو ان کی اپنی جماعت نے ہی اقتدار سے نکال دیا ہے۔

سر کیئر سٹارمر نے لیبر پارٹی کی قیادت سے اپنے استعفے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے ساتھ برطانیہ کے وزیرِ اعظم کے طور پر ان کا دور ختم ہو گیا ہے۔

ڈاؤننگ سٹریٹ میں اپنی رہائش گاہ کے باہر خطاب میں انھوں نے کہا کہ وہ اس وقت تک عہدے پر برقرار رہیں گے جب تک ان کا جانشین مقرر نہیں ہو جاتا۔

ان کی ساکھ میں کمی بہت ڈرامائی رہی ، دو سال سے بھی کم عرصے میں پہلے وہ بھاری اکثریت سے عام انتخابات جیتنے کا جشن منا رہے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کئی برسوں تک برطانوی سیاست پر چھائے رہیں گے۔

اب، 'قومی تجدید کی دہائی' شروع کرنے کے بجائے، جیسا کہ انھوں نے وعدہ کیا تھا، انھیں اپنی ہی جماعت نے اقتدار سے ہٹا دیا گیا ہے۔

مستعفی ہوتے ہوئے ایک جذباتی تقریر میں انھوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے یہ سوال اٹھایا کہ 'کیا میں اگلے عام انتخابات میں قیادت کرنے کے لیے سب سے موزوں ہوں۔'

'میں نے اپنی پارلیمانی پارٹی کا اس سوال پر جواب سن لیا ہے، اور میں اس جواب کو خوش دلی سے قبول کرتا ہوں۔'

سر کیئر کی 2024 کی انتخابی کامیابی میں عوامی غصہ بھی شامل تھا جو پچھلی کنزرویٹو حکومت کے خلاف تھا، یہ غصہ وبا کے دوران ڈاؤننگ سٹریٹ میں ہونے والی پارٹیوں اور کنزرویٹو وزیرِ اعظم لز ٹرس کے منی بجٹ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران کی وجہ سے بڑھا تھا۔

سر کیئر کی یہ حکمت عملی کہ لیبر کی ترجیح کو معاشی استحکام کے طور پر پیش کیا جائے، کامیاب رہی۔

انھوں نے 2024 کی انتخابی مہم ایک لفظ کے نعرے 'تبدیلی' کے ساتھ چلائی، اور اپنی سیاسی شناخت 'سنجیدہ، قابل اور اعلیٰ اخلاقی معیارات کی نمائندہ ' کو نمایاں رکھا۔

سر سٹامر نے تسلیم کیا کہ ان کی جماعت یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ آیا وہ اگلے عام انتخابات میں پارٹی کی رہنمائی کے لیے درست شخصیت ہیں یا نہیں۔
EPA
سر سٹامر نے تسلیم کیا کہ ان کی جماعت یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ آیا وہ اگلے عام انتخابات میں پارٹی کی رہنمائی کے لیے درست شخصیت ہیں یا نہیں۔

لیکن ان کی کامیابی قومی ووٹ کے بہت کم حصے کے ساتھ حاصل ہوئی تھی، اور چند ہی ہفتوں میں ان کی مقبولیت تیزی سے کم ہو گئی، کیونکہ کئی غلطیاں ہوئیں اور پالیسیوں میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں۔

انھوں نے خود کو ایک سمجھدار اور عملی رہنما کے طور پر پیش کیا تھا جو ہمیشہ قومی مفاد میں کام کرے گا 'سنجیدہ وقتوں کے لیے ایک سنجیدہ شخص۔'

لیکن آخر تک، ان کی اپنی جماعت کے اراکینِ پارلیمنٹ میں ناقدین کی بڑھتی ہوئی تعداد یہ سمجھنے لگی کہ ان کے پاس واضح نظریہ نہیں ہے اور سادہ الفاظ میں، وہ سیاست میں زیادہ مہارت نہیں رکھتے۔ سب سے عام شکایت یہ تھی کہ سر کیئر میں مقصد کا مضبوط احساس نہیں تھا، اور وہ نہیں جانتے تھے کہ اقتدار کے ساتھ وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

وہ سیاست میں نسبتاً دیر سے آئے تھے، اور ایک کامیاب قانونی کیریئر کے بعد اپنی پچاس کی عمر میں پہلی بار رکنِ پارلیمنٹ بنے۔ ان کے مخالفین کا کہنا تھا کہ ان میں لیبر کا پیغام مؤثر طریقے سے پہنچانے کی صلاحیت کی کمی ہے۔ ایک ایسے دور میں جہاں سیاست میں اصلیت اور جذبات کا غلبہ ہے، وہ اکثر سخت اور بے جان محسوس ہوتے تھے۔

وہ اور ان کی چانسلر، ریچل ریوز، نے ڈاؤننگ سٹریٹ میں اپنے ابتدائی دنوں میں خبردار کیا کہ کنزرویٹو حکومت سے وراثت میں ملنے والے معاشی مسائل ان کے اندازے سے کہیں زیادہ بڑے ہیں۔ ٹیکس بڑھانے پڑیں گے۔

سر کیئر نے بعد میں تسلیم کیا کہ یہ ایک غلطی تھی اور انھیں ووٹرز کو زیادہ امید دینی چاہیے تھی۔

لیکن جولائی 2024 میں حکومت کا یہ فیصلہ کہ ایک کروڑ پنشنرز کے لیے سردیوں کے ایندھن کی ادائیگیاں ختم کر دی جائیں، وہ لمحہ ثابت ہوا جسے بعد میں ماہرین نے سر کیئر کی ذاتی مقبولیت کے تیزی سے گرنے کا آغاز قرار دیا۔

انھوں نے گذشتہ سال اس پالیسی پر یوٹرن لیا، اس وقت تک وہ ایسی پالیسیوں کو واپس لینے کا ایک سلسلہ قائم کر چکے تھے جو عوام یا ان کے اپنے، بڑھتے ہوئے بغاوت کے رجحان رکھنے والے، اراکینِ پارلیمنٹ میں مقبول نہیں تھیں۔

وزارتِ عظمیٰ کے صرف تین ماہ بعد، انھوں نے وزیر اعظم بننے کے بعد حاصل ہونے والے چھ ہزار پاؤنڈ (آٹھ ہزار ڈالر) سے زائد مالیت کے تحائف اور مہمان نوازی واپس کر دی، جن میں ٹیلر سوئفٹ کے کنسرٹ کے ٹکٹ بھی شامل تھے۔

قوانین کے مطابق ہونے کے باوجود، وزراء کی جانب سے امیر عطیہ دہندگان سے ہزاروں پاؤنڈ مالیت کی مفت سہولتیں قبول کرنے کی خبریں عوام کو ناگوار گزریں۔

ٹرمپ کے ساتھ غیر متوقع دوستی

اگرچہ سر کیئر کو ملک کے اندر مشکلات کا سامنا تھا، لیکن عالمی سطح پر معاملات سنبھالنے کے طریقے پر انھیں سراہا گیا۔

انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک غیر متوقع دوستی قائم کی، اور ساتھ ہی یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

تاہم، خارجہ امور پر ان کی توجہ اور بیرونِ ملک ان کے مسلسل دوروں کی وجہ سے ناقدین نے انھیں 'نیور ہیئر کیئر' کا لقب دیا۔

برطانیہ اور امریکہ کے درمیان خصوصی تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے جب سر کیئر نے ایران کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا اگرچہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ان کے اس موقف کو عوام کی حمایت حاصل تھی۔

اندرونِ ملک، سر کیئر کو ڈاکٹروں کی ہڑتالوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔

اگرچہ انھوں نے معاشی ترقی کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیا تھا، لیکن ترقی کی رفتار سست رہی اور یوکرین اور ایران کی جنگوں کے اثرات نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دباؤ کو مزید شدید کر دیا۔

یہ مشکل حالات، اور ساتھ ہی حکومت کی غلطیاں، دائیں بازو کی ریفارم یوکے پارٹی نے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیں، جس نے 2025 کے موسمِ بہار میں رائے عامہ کے جائزوں میں لیبر کو پیچھے چھوڑ دیا اور تب سے اپنی برتری برقرار رکھی ہوئی ہے۔

گذشتہ سال مئی میں، ریفارم یوکے کو لیبر کے نقصان پر انتخابی کامیابی حاصل ہوئی، جہاں اس نے اپنے پہلے مقامی کونسلز اور میئر شپ پر کنٹرول حاصل کیا، اور رنکارن اور ہیلزبی کے ضمنی انتخاب میں ایک پارلیمانی نشست بھی جیت لی۔

اگرچہ ابتدا میں امریکی اور برطانوی رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ملاقاتیں ہوئیں، لیکن ایران کے ساتھ جنگ میں شمولیت سے ابتدائی انکار کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ’خاص رشتے‘ میں بتدریج کشیدگی پیدا ہونے لگی۔
AFP
اگرچہ ابتدا میں امریکی اور برطانوی رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ملاقاتیں ہوئیں، لیکن ایران کے ساتھ جنگ میں شمولیت سے ابتدائی انکار کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 'خاص رشتے' میں بتدریج کشیدگی پیدا ہونے لگی۔

مینڈلسن تنازع

سر کیئر کی قیادت کے حوالے سے بے چینی بڑھتی رہی کیونکہ ان کی ذاتی مقبولیت رائے عامہ میں ریکارڈ حد تک گر گئی تھی۔

خزاں کے موسم میں، حکومت کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب لارڈ مینڈلسن کو امریکی سفیر کے عہدے سے ان کے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ روابط کی بنا پر برطرف کیا گیا، جبکہ نائب وزیر اعظم اینجلا رینر نے ایک فلیٹ خریدنے کے دوران مناسب ٹیکس ادا نہ کرنے پر استعفیٰ دے دیا۔

لارڈ مینڈلسن کی تقرری پر تنازع اس وقت دوبارہ شدت اختیار کر گیا جب امریکہ کی جانب سے ایپسٹین فائلز کے تحت جاری نئی دستاویزات میں دونوں کے تعلقات کی گہرائی کے مزید شواہد سامنے آئے۔

غصہ اس وقت مزید بڑھ گیا جب یہ بات سامنے آئی کہ خدشات کے باوجود جانچ کرنے والے حکام کی تنبیہات کو نظر انداز کرتے ہوئے لارڈ مینڈلسن کو اس عہدے کے لیے سکیورٹی کلیئرنس دے دی گئی تھی۔

اگرچہ سر کیئر کو اس بارے میں اپریل تک آگاہ نہیں کیا گیا تھا، لیکن اس کے بعد ان پر یہ الزامات لگے کہ انھوں نے پارلیمنٹ کو گمراہ کیا، کیونکہ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ تقرری کے دوران 'مکمل ضابطہ کار' پر عمل کیا گیا تھا۔

اس پوری کہانی نے ایک بار پھر اس بات پر سوالات اٹھا دیے کہ ڈاؤننگ سٹریٹ کے معاملات پر سر کیئر کی گرفت کتنی مضبوط ہے اور ابتدا ہی میں لارڈ مینڈلسن کی تقرری کے حوالے سے ان کا فیصلہ کتنا درست تھا۔

اگرچہ وہ چند مزید ہفتوں تک عہدے پر برقرار رہے، لیکن وزیر اعظم کے طور پر ان کا اختیار مسلسل کم ہوتا جا رہا تھا۔ بعض جائزوں کے مطابق وہ حالیہ تاریخ کے سب سے غیر مقبول وزرائے اعظم میں شمار ہونے لگے تھے۔

سر کیئر اور ان کے قریبی ساتھی یہ پوری طرح سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ ووٹرز میں ان کے خلاف نفرت کی وجہ کیا ہے۔

لیبر کے رکن پارلیمنٹ جوناتھن ہنڈر نے ٹائمز کو بتایا 'ووٹرز سے بات چیت میں یہ تاثر ملتا ہے کہ کیئر ایک طرف کسی واضح موقف کے حامل نہیں لگتے اور دوسری طرف حد سے زیادہ خود راست نظر آتے ہیں، اور ان کا انداز اُس دفتری طریقہ کار کی یاد دلاتا ہے جسے لوگ اپنے کام کی جگہ پر پسند نہیں کرتے۔'

مئی میں ہونے والے انتخابات ،جن میں لیبر ویلز میں اقتدار سے باہر ہو گئی، سکاٹش پارلیمنٹ میں اپنی بدترین کارکردگی دکھائی، اور انگلینڈ میں تقریباً 1500 کونسلرز کھو بیٹھی، پارٹی کے بہت سے ارکان پارلیمنٹ کے لیے آخری حد ثابت ہوئے۔

سر سٹامر کے دورِ اقتدار میں سب سے بڑے سکینڈلز میں سے ایک اس وقت سامنے آیا جب ایپسٹین فائلز میں برطانیہ کے امریکہ میں سفیر لارڈ پیٹر مینڈلسن کا نام سامنے آیا۔
Getty Images
سر کیئر نے لارڈ مینڈلسن کو برطانیہ کے سب سے اہم اتحادی ملک میں سفیر مقرر کیا

ان میں سے 100 سے زیادہ نے کھل کر ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا، اور ویس سٹریٹنگ نے حکومت کی 'سستی روی' اور 'ویژن' کی کمی پر تنقید کرتے ہوئے صحت کے وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

سٹارمر اپنی پوزیشن پر ڈٹے رہے، انھوں نے زیادہ جرات مندانہ اقدامات کا وعدہ کیا اور کہا کہ ان کی قیادت میں ملک بہتری کی طرف بڑھ رہا ہے، این ایچ ایس کی ویٹنگ لسٹیں کم ہو رہی ہیں اور قانونی تارکینِ وطن اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آنے والوں میں کمی آ رہی ہے۔

انھوں نے 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے منصوبے کا اعلان کیا جسے سیاسی ورثہ قائم کرنے کی کوشش سمجھا گیا اور ان کے حامیوں نے سکولوں میں مزید مفت ناشتے کے کلب جیسے اقدامات کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ حکومت مہنگائی کے مسئلے سے نمٹ رہی ہے۔

سب سے بڑھ کر، انھوں نے خبردار کیا کہ قیادت کی دوڑ کے باعث ملک کو افراتفری اور عدم استحکام میں نہ دھکیلا جائے۔

لیکن اس وقت تک سٹریٹنگ کھلے عام ان کی جگہ لینے کے لیے مہم چلا رہے تھے۔ ایک اور دھچکا اس وقت لگا جب ان کے معزز سمجھے جانے والے وزیر دفاع جان ہیلی نے دفاعی اخراجات کے منصوبوں کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔

تاہم، ویسٹ منسٹر میں اینڈی برنہم کی واپسی وہ فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوئی جس نے سر کیئر کے دورِ وزارت عظمیٰ کا خاتمہ کر دیا۔

برنہم، جو طویل عرصے سے اس اعلیٰ عہدے کے خواہاں تھے، نے شمال مغربی انگلینڈ کے میکر فیلڈ میں ضمنی انتخاب لڑا، تاکہ دوبارہ رکنِ پارلیمنٹ بن سکیں اور لیبر کی قیادت کے لیے چیلنج کر سکیں۔

اس علاقے میں، جہاں حال ہی میں مقامی انتخابات میں ریفارم یوکے جیت چکی تھی، ان کی شاندار فتح کو بہت سے لیبر اراکین پارلیمنٹ نے اس بات کا ثبوت سمجھا کہ وہی اگلے عام انتخابات میں پارٹی کی قیادت کے لیے موزوں شخص ہیں۔

اپنی مستعفیٰ ہونے کی تقریر میں سر کیئر نے برنہم کا نام نہیں لیا، اور اعلان کیا کہ اب لیبر کے نئے رہنما کے انتخاب کے لیے مقابلہ ہوگا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا کوئی اور امیدوار بھی سامنے آتا ہے یا نہیں۔

اپنی رہائش گاہ کے باہر کھڑے ہو کر انھوں نے کہا 'دو سال پہلے اس سٹریٹ میں آنا میری زندگی کا سب سے فخر کا لمحہ تھا۔'

انھوں نے اپنے جانشین کو مکمل حمایت دینے کا وعدہ کیا اور تقریر کے اختتام پر، وہ جذبات جو ان کے دورِ اقتدار میں کم ہی نظر آئے تھے، نمایاں ہو گئے۔

'جب میں ملک کی سب سے بڑی ذمہ داری چھوڑوں گا، تو میں اپنی سب سے اہم ذمہ داری پر زیادہ وقت صرف کروں گا، اپنی بہترین اہلیہ وِک کے لیے ایک اچھا شوہر بننا، جو ہر اچھے اور برے وقت میں میرے ساتھ کھڑی رہیں، اور اپنے خوبصورت بچوں کے لیے بہترین والد بننا، جو میری شان اور خوشی ہیں۔'


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US