ڈی ایچ اے کا بحریہ ٹاؤن سے زمینوں کا ریکارڈ اور قانونی دستاویزات پیش کرنے کا مطالبہ

image

ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) نے زمینوں کی ملکیت اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق جاری تنازع پر اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی اراضی کا فیصلہ اشتہاری مہم، بینرز یا سوشل میڈیا مہمات سے نہیں بلکہ قانونی ریکارڈ، ریونیو دستاویزات اور مجاز اداروں کے فیصلوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

ڈی ایچ اے کے مطابق اس کا بنیادی مقصد اپنے ممبران اور الاٹیز کے حقوق کا تحفظ اور زمینوں سے متعلق معاملات کو قانون کے مطابق حل کرنا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ جن زمینوں پر پلاٹس اور فائلیں فروخت کی گئیں، ان کی ملکیت اور قانونی حیثیت کس بنیاد پر قائم تھی۔

بیان میں کہا گیا کہ بحریہ ٹاؤن کے رہائشی بھی شہری ہیں اور انہیں کسی تنازع میں بطور دباؤ استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ڈی ایچ اے کا مؤقف ہے کہ وہ کسی فرد کے گھر یا جائز حق کے خلاف نہیں بلکہ ان معاملات پر وضاحت چاہتا ہے جہاں زمینوں کی ملکیت، منظوریوں اور قانونی حیثیت سے متعلق سوالات موجود ہیں۔

ادارے نے مزید کہا کہ اگر کسی منصوبے یا زمین کے حوالے سے تمام قانونی تقاضے مکمل ہیں تو متعلقہ ریکارڈ اور دستاویزات سامنے لانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ ڈی ایچ اے کے مطابق کسی بھی تنازع کا حل جذباتی بیانات یا عوامی مہمات نہیں بلکہ شفاف قانونی عمل اور مستند ریکارڈ ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اصل مسئلہ عوام اور ڈی ایچ اے کے درمیان نہیں بلکہ زمینوں کی قانونی حیثیت اور دعووں کی جانچ کا ہے۔ ادارے کے مطابق شہریوں کی سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ہر منصوبے اور اراضی کی تفصیلات متعلقہ قوانین کے مطابق واضح ہوں۔

ڈی ایچ اے نے بحریہ ٹاؤن انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ متنازع قرار دی جانے والی زمینوں پر فروخت کیے گئے پلاٹس اور فائلوں کی قانونی بنیاد سے متعلق ریکارڈ عوام اور متعلقہ اداروں کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ معاملے کا شفاف اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔

ادارے نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ نہ کسی شہری کے ساتھ ناانصافی ہونے دی جائے گی اور نہ ہی کسی زمین کے معاملے میں قانونی تقاضوں کو نظرانداز کیا جائے گا۔ ڈی ایچ اے کے مطابق تمام فریقوں کو قانون اور متعلقہ فورمز کے ذریعے اپنے دعوے ثابت کرنے چاہئیں تاکہ متاثرہ افراد کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US