مکہ اور گنگا کا ذکر کرنے والے تاریخی کتبے سے لے کر ’نمک چھڑک کر دعا‘ اور ہندو عقیدت مندوں کی روایات تک، یہ درگاہ صدیوں پرانی باہمی احترام کی کہانی سناتی ہے۔

انڈیا کی ریاست تمل ناڈو کے مختلف علاقوں میں اکثر ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں ہندو تہواروں، خصوصاً رتھ یاترا اور دیگر مذہبی تقریبات کے دوران مسلمان زائرین اور شرکا کو پانی اور اور دیگر اشیا پیش کرتے ہیں جبکہ ہندو برادری کے افراد مسلم تہواروں پر جا کر مٹھائیاں تقسیم کرتے اور مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
مذہبی ہم آہنگی اور باہمی احترام کی یہ روایت صرف آج کی نہیں بلکہ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے، جس کی ایک نمایاں علامت تمل ناڈو کے شہر ناگور میں واقع ’ناگور مینار‘ اور ’درگاہ‘ آج بھی ہیں۔
ناگور درگاہ کے چیف ٹرسٹی خواجہ نجیم الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ اس درگاہ پر بڑی تعداد میں ہندو عقیدت مند بھی حاضری دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہاں تمام مذاہب اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد عقیدت کے ساتھ عبادت و دعا کرتے ہیں، جو اس علاقے میں مذہبی رواداری اور بھائی چارے کی زندہ مثال ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’جب زائرین کی منتیں اور دعائیں پوری ہو جاتی ہیں تو وہ درگاہ میں لنگر اور خیراتی کھانے کا اہتمام کرتے ہیں، جبکہ بعض افراد نذرانے کے طور پر درگاہ کے چندہ بکس میں رقم بھی جمع کراتے ہیں۔‘
خواجہ نجیم الدین کے مطابق ’ناگور میں موجود تاریخی مینار کی تعمیر نائیک حکمرانوں کے دور میں عمل میں آئی تھی، جو آج بھی اس علاقے کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہے۔‘

تنجاور کے نائیک بادشاہ اور ناگور درگاہ: ہندو مسلم یکجہتی کی تاریخی علامت
مورخین کے مطابق ناگور درگاہ میں موجود مینار اور اس پر کندہ نادر تاریخی کتبہ ہندو مسلم ہم آہنگی اور اتحاد کی ایک نمایاں مثال ہے۔
ڈاکٹر ونجی یور کے پنیر سیلوم جو انڈین محکمہ آثارِ قدیمہ کے شعبۂ تمل کتبہ جات کے سربراہ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ہیں، نے بتایا کہ ’17ویں صدی میں تنجاور پر حکومت کرنے والے آخری نائیک حکمران وجے راگھوا نائیکر ایک پُرجوش ویشنو عقیدت مند تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اسی بادشاہ نے سنہ 1645 سے سنہ 1673 کے درمیان ناگور درگاہ کے مرکزی حصے میں ایک بلند و بالا مینار تعمیر کروایا، جو آج بھی اس تاریخی مقام کی شناخت کا اہم حصہ ہے۔‘
ڈاکٹر پنیر سیلوم کے مطابق ’اس مینار کے پہلو میں تمل اور عربی زبانوں میں ایک تاریخی کتبہ بھی موجود ہے، جو اس دور کے مذہبی رواداری اور باہمی احترام کی عکاسی کرتا ہے۔‘
ڈاکٹر ونجی یور کے پنیر سیلوم نے ناگور درگاہ کے مینار پر موجود قدیم کتبے کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس میں ایک عبارت ’پاتھِب ورشَم آڈی۔۔۔‘ سے شروع ہوتی ہے۔‘
ان کے مطابق اس ’کتبے میں واضح طور پر درج ہے کہ اگر کوئی شخص اس مینار کو نقصان پہنچائے یا اسے مسمار کرے تو اسے سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
تشریح کے مطابق اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایسا عمل مکہ مکرمہ میں گناہ کرنے کے برابر تصور کیا جائے گا، اور اسی طرح گنگا کے کنارے ایک مقدس گائے کو قتل کرنے جیسے گناہ کے مترادف سمجھا جائے گا۔‘
ڈاکٹر پنیر سیلوم کے مطابق یہ ’کتبہ اس دور کی مذہبی حساسیت، احترامِ اور باہمی عقیدت کی عکاسی کرتا ہے جو مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کی تاریخی مثال کے طور پر آج بھی اہمیت رکھتا ہے۔‘

ڈاکٹر ونجی یور کے پنیر سیلوم کے مطابق ’اس تاریخی کتبے کو تنجاور کے نائیک حکمران وجے راگھوا نائک نے اس نیت سے درج کروایا تھا کہ دونوں مذاہب کے پیروکاروں کی مذہبی جذبات کا احترام کیا جائے۔‘
انھوں نے وضاحت کی کہ ’اس کتبے میں مسلمانوں کے مقدس مقام مکہ مکرمہ کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ ہندوؤں کے لیے مقدس سمجھی جانے والی گنگا ندی اور مقدس گائے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس یادگار کو نقصان پہنچانا سنگین مذہبی گناہوں کے مترادف ہوگا۔‘
ڈاکٹر پنیر سیلوم کے مطابق ’یہ تحریر اس بات کی تاریخی شہادت ہے کہ مذہبی ہم آہنگی اور باہمی احترام کا تصور محض جدید دور کا نہیں بلکہ صدیوں پہلے بادشاہوں کے عہد میں بھی موجود تھا۔‘
ان کے بقول ’مذہبی رواداری اور ہم آہنگی ہمیشہ سے موجود رہی ہے اور ناگور درگاہ کا مینار اور اس پر موجود کتبہ آج بھی اس تاریخی حقیقت کی واضح دلیل ہیں۔‘

’درگاہ میں کام کرنے والے افراد میں 70 فیصد سے زائد ہندو ہیں‘
ناگور درگاہ میں مذہبی ہم آہنگی کی ایک منفرد مثال کے طور پر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نہ صرف عقیدت کے ساتھ شریک ہوتے ہیں بلکہ وہاں کی روایات اور رسومات میں بھی حصہ لیتے ہیں۔
درگاہ میں عموماً مساجد میں اذان یا نماز کے آغاز کی علامت کے طور پر بجایا جانے والا ’نقّارہ‘ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ناگور درگاہ میں یہ نقّارہ بجانے والا شخص ہندو برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی طرح ہندو مندروں میں استعمال ہونے والے روایتی موسیقی کے آلات جیسے میلا تھال اور ناداسورم بھی درگاہ کی تقریبات میں بجائے جاتے ہیں۔
ناگور درگاہ مشاورتی کمیٹی کے چیئرمین سید محمد خلیفہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہاں مذہبی ہم آہنگی صرف نعروں یا گفتگو تک محدود نہیں بلکہ یہ لوگوں کی روزمرہ طرزِ زندگی کا حصہ ہے۔‘
ان کے مطابق ’درگاہ میں کام کرنے والے افراد میں 70 فیصد سے زائد ہندو ہیں، جبکہ روزانہ اوسطاً 25 ہزار سے زائد زائرین یہاں آتے ہیں جن میں ہندو، مسلمان اور عیسائی سب شامل ہیں۔‘
کاندھوری جشن اور مشترکہ روایات
انھوں نے بتایا کہ ’ناگور درگاہ میں منائے جانے والے کاندھوری (سالانہ عرس) کے آغاز پر آج بھی ماہی گیر برادری، جو زیادہ تر ہندو افراد پر مشتمل ہے، خصوصی نذرانے لے کر آتی ہے۔‘
اسی طرح ’چیٹی پالاکی‘ کہلانے والی تقریب میں چیٹیار برادری کے افراد اب بھی روایت کے مطابق جھنڈا لے کر آتے ہیں، جو بعد میں درگاہ کے مینار پر نصب کیا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ ناگور درگاہ کے دورِ اوّل کے ایک بزرگ شخصیت پلانیاندی پلئی کی نسل سے تعلق رکھنے والا خاندان آج بھی درگاہ کے مزار کے لیے چادر فراہم کرتا ہے جو روایتی طور پر مزار پر چڑھائی جاتی ہے۔
یہ تمام روایات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ناگور درگاہ میں مختلف مذاہب کے درمیان تعاون اور احترام کی ایک مضبوط اور زندہ روایت آج بھی برقرار ہے۔

’منتیں پوری ہونے پر بالوں کا نذرانہ‘
سید محمد خلیفہ نے بتایا کہ ’اگرچہ مسلم ثقافت میں سر منڈوانے کی روایت عام طور پر موجود نہیں، تاہم ناگور درگاہ میں ہندو عقیدت مند اپنی منتیں پوری ہونے پر بالوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے آتے ہیں، جو اس درگاہ کی مشترکہ مذہبی روایت کا حصہ بن چکا ہے۔‘
ناگور درگاہ میں 16ویں صدی کے صوفی بزرگ شاہ العبد الحمید ناگوری کے مزار کے ارد گرد موجود عمارت کو ابتدا میں تنجاور کے نائیک حکمران اچیو تھپا نائیکر نے تعمیر کروایا تھا جو آج ناگور درگاہ کے نام سے معروف ہے۔
سید محمد خلیفہ کے مطابق 17ویں صدی میں وجے راگھوا نائک کی جانب سے ایک مینار تعمیر کیا گیا، جبکہ 18ویں صدی میں تنجاور کے مراٹھا حکمران پرتاپ سنگھ نے موجودہ بڑے مینار کی تعمیر کروائی، جو تقریباً 380 سال قدیم سمجھا جاتا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ’پرانے ریکارڈ کے مطابق پرانگی پیٹائی سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان شخص نے بھی ایک مینار تعمیر کرایا اور سنگاپور سے آئے ایک شخص نے بھی ایک مینار کی تعمیر کروائی۔‘
ان کے مطابق مجموعی طور پر ناگور آنداور کی یاد میں پانچ مختلف مینار تعمیر کیے گئے، جنھیں پانچ مختلف افراد نے وقف کیا اور ان میں سب سے بلند مینار تنجاور کے بادشاہ کی جانب سے تعمیر کیا گیا تھا۔
یہ تمام تاریخی شواہد ناگور درگاہ کو ہندو مسلم مشترکہ ثقافت اور مذہبی ہم آہنگی کی ایک نمایاں علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

’نمک چھڑک کر دعا‘
ناگاپٹنم ضلع کے ناگاکُڈیان گاؤں کے رہائشی منی وِیلاّن نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’کورونا وبا کے دوران وہ شدید بیماری میں مبتلا ہو گئے تھے اور علاج کے دوران انھوں نے ناگور آنداور سے دعا کی تھی جسے وہ اپنے لیے بڑی مددگار سمجھتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’پچھلے سال پیٹ درد اور بخار کے باعث ہسپتال میں علاج کروانے کے بعد وہ ناگور درگاہ گئے اور وہاں روایتی طور پر نمک چھڑک کر دعا بھی کی۔‘
ان کے مطابق ’اپنی منت پوری ہونے پر انھوں نے درگاہ میں آکر لنگر کا اہتمام کیا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اکیلے نہیں بلکہ ان جیسے کئی ہندو عقیدت مند بھی مختلف حاجتوں اور دعاؤں کے ساتھ درگاہ میں حاضری دیتے ہیں اور اپنی منتیں مانتے ہیں۔‘
یہ روایت ناگور درگاہ میں ہندو مسلم مشترکہ عقیدت اور سماجی ہم آہنگی کی ایک واضح مثال کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔

ناگاپٹنم ضلع کے وٹّیکارن ایروپو گاؤں سے تعلق رکھنے والے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے ’داس‘ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’ان کے بیٹے کی صحت اکثر خراب رہتی تھی، جس کی وجہ سے انھیں مہینے میں تقریباً دس دن ہسپتال جانا پڑتا تھا اور اس صورتحال کے باعث وہ کسی بھی کام پر توجہ نہیں دے پا رہے تھے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’اسی پریشانی کے دوران وہ اپنی اہلیہ اور بچے کے ساتھ ناگور درگاہ گئے اور وہاں منت مانی۔‘ ان کے مطابق جب ’ان کے بیٹے کی صحت بہتر ہو گئی تو وہ دوبارہ اہل خانہ کے ساتھ درگاہ پہنچے اور اپنی منت پوری ہونے پر نذرانہ پیش کیا۔‘
علاقے کے لوگوں کے مطابق ناگور درگاہ مختلف مذاہب کے افراد کی مشترکہ حاضری اور عقیدت کے باعث مذہبی ہم آہنگی کی ایک نمایاں علامت بنی ہوئی ہے۔