سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے مجوزہ روزانہ نظام کے خلاف سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا ہے، جس میں وفاقی حکومت سے اس مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔
توجہ دلاؤ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ حکومت اگر موجودہ پندرہ روزہ نظام کی جگہ روزانہ قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار متعارف کراتی ہے تو اس کے عوام اور معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے خدشہ ظاہر کیا کہ روزانہ قیمتوں میں ردوبدل سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔
نوٹس میں حکومت سے سوال کیا گیا ہے کہ مجوزہ پالیسی کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس کے نفاذ کا طریقہ کار کیا ہوگا اور اس سے کاروباری سرگرمیوں، عوامی زندگی اور روزمرہ کے اخراجات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صارفین کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لیے تجویز کردہ اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ حکومت عوام کو ممکنہ منفی معاشی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات کی مکمل تفصیلات ایوان میں پیش کرے۔