’مجھے پہلی بار پاکستان آنے پر خوشی ہوئی‘: اسلام آباد میں ایس سی او اجلاس کے اختتام پر انڈین رابطہ کار کا پیغام

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے قومی رابطہ کاروں کا تین روزہ اجلاس بدھ کے روز اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ اجلاس کے بعد انڈین رابطہ کاری آلوک دیمری نے پاکستانی سرکاری میڈیا کو بتایا کہ انھیں پہلی بار پاکستان آنے پر خوشی ہوئی ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے قومی رابطہ کاروں کا تین روزہ اجلاس بدھ کے روز اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ اجلاس کے بعد انڈین رابطہ کاری آلوک دیمری نے پاکستانی سرکاری میڈیا کو بتایا کہ انھیں پہلی بار پاکستان آنے پر خوشی ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے رواں ماہ ایس سی او کی 2026-27 کے لیے سربراہی سنبھالی ہے اور اگست 2027 میں تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کی میزبانی بھی اسلام آباد کو کرنا ہے۔

28 سے 30 ستمبر تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں پاکستان کی صدارت کے دوران ایس سی او کی سرگرمیوں کے پروگرام، آئندہ اجلاسوں اور اہم تقریبات کی تیاریوں سمیت تنظیم کے ایجنڈے سے متعلق دیگر امور پر غور کیا گیا۔

پاکستان نے اپنی صدارت کے لیے ’تصور کو عمل میں بدلنا: رابطہ کاری، جدت اور مشترکہ خوشحالی‘ کا موضوع منتخب کیا ہے، جس کے تحت علاقائی رابطہ کاری، اقتصادی تعاون، جدت اور رکن ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو ترجیح دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس اجلاس میں انڈیا کی شرکت خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کیونکہ یہ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی کے ماحول میں ہو رہی ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والا یہ اجلاس اگلے سال ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس کی تیاری کے عمل کا ابتدائی مرحلہ بھی ہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ اگست 2027 میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں ایس سی او کے تمام رکن ممالک کے رہنماؤں کو دعوت دی جائے گی، جس میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل ہوں گے۔

’امید ہے دیگر شہر دیکھنے کا بھی موقع ملے گا‘

بدھ کے روز پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے انڈیا کے قومی رابطہ کار آلوک دیمری کی سرکاری میڈیا سے ہونے والی گفتگو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی۔

آلوک دیمری انڈین وزارت خارجہ میں جوائنٹ سکریٹری ہیں اور وہ ایس سی او کے لیے انڈیا کے کو آرڈینیٹر بھی ہیں۔

انڈین وفد کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انھیں پہلی بار پاکستان آنے پر خوشی ہوئی ہے۔ ’میرا پہلا دورہ اسلام آباد کا ہی ہوا ہے۔ دیکھنے کی چاہت لاہور، سیالکوٹ، فیصل آباد ہیں۔ لیکن ہماری سال بھر الگ الگ شہروں میں ملاقاتیں چلتی ہیں۔ لاہور کو ایس سی او کلچرل سٹی بھی قرار دیا گیا ہے۔‘

انھیں امید ہے کہ انھیں پاکستان کے دیگر شہر دیکھنے اور لوگوں سے ملنے کا موقع ملے گا۔

تنظیم کی صدارت مشرقی ایشیا اور وسطی ایشیا سے ہوتے ہوئے صدارت ہمارے خطے کے پاس آئی ہے جو کہ ایک اہم موقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بشکیک میں ایس سی او کے اجلاس میں سویلائزیشن فورم ڈائیلاگ کی ایک کال بھی دی تھی۔

آلوک دیمری کا کہنا تھا کہ ایس سی او رہنماؤں نے انڈین وزیرِ اعظم کی کال پر رضامندی بھی ظاہر کی تھی اور اب سویلائزیشن ڈائیلاگ فورم کا اجلاس 20 نومبر کو نیو دہلی میں ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ سفر ہے جس میں یوریشین اور ایشین کے ممالک ایس سی او کے پلیٹ فارم پر ایک ساتھ آئے ہیں اور ہم نے اپنی بہتری، خوشحالی اور بہبود کے لیے ایک ایجنڈا بنایا ہے جس میں کنکٹیوٹی بہت اہم مدعا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران خطے میں رابطے، ٹرانزت اور تجارت جیسے اہم مسائل پر بات چیت ہوئی ہے اور اس میں ترقی بھی ہو رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ وہ پاکستان آئے ہیں۔

آلوک دمری نے بتایا کہ ایس سی او کے توسط سے تقریبات سال بھر چلتی رہیں گی اور اسلام آباد سمٹ کے ساتھ ختم ہوں گے۔

’ہمیں امید ہے کہ ایس سی او کے تحت تعاون کے جتنے بھی اقدامات جاری ہیں، ان میں اضافہ ہوگا۔‘

انڈین وفد کے سربراہ نے بتایا کہ ایس سی او میں اب تک بات چیت چینی اور روسی زبانوں میں ہوتی تھی، لیکن پاکستان کی زیرِ صدارت اب جلد ہی انگریزی میں بھی ہوں گی۔

آلوک دیمری کی قیادت میں انڈین وفد ایک ایسے وقت میں اسلام آباد آیا جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔ یہ گذشتہ سال انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی فوجی کشیدگی کے بعد انڈیا کا پاکستان کا پہلا ایسا دورہ بھی ہے۔

اس سے قبل انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اکتوبر سنہ 2024 میں ایس سی او کی کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔

انڈیا اور پاکستان نے تقریباً ایک عشرے سے باہمی مذاکرات نہیں کیے

انڈیا اور پاکستان نے تقریبا ایک عشرے سے باہمی مذاکرات نہیں کیے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان آخری بات چیت دسمبر سنہ 2015 میں ہوئی تھی جب اس وقت کی انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ’جامع باہمی مذاکرات‘ کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی عرض سے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔ تاہم جنوری سنہ 2016 میں پٹھان کوٹ پر حملے کے بعد یہ عمل ایک بار پھر رک گیا۔

انڈیا کی حکومت نے یہ موقف اختیار کر رکھا ہے کہ پاکستان سے بات چیت صرف اسی صورت میں ہو سکے گی جب ’فضا دہشت گردی سے پوری طرح صاف ہو۔‘ تاہم وہ ایس سی او جیسے ملٹی لیٹرل پلیٹ فارم پر پاکستان کے ساتھ شرکت کے لیے تیار ہے۔

Getty Images
Getty Images

’انڈیا کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ ایس سی او کے عمل کو خراب نہ کرے‘

بین الاقوامی امور کی تجزیہ کار نروپما سبرامنین کہتی ہیں کہ انڈیا اور پاکستان شنگھائی کوآپریشن گروپ میں بہت باقا‏عدگی کے ساتھ شریک ہوتے رہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’دونوں ممالک اسے ایک ملٹی لیٹرل پلیٹ فارم سمجھتے ہیں جس میں چین اور روس بھی شامل ہیں۔ اس لیے دونوں کے لیے یہ اہم ہے کہ وہ اس میں شریک ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور انڈیا دونوں ہی چین اور روس سے وسیع تر پارٹنرشپ کے خواہاں ہیں۔ انڈیا ایس سی او اور برکس جیسے فورم کے ذریعے یہ اشارہ بھی دینا چاہتا ہے کہ وہ امریکہ پر منحصر نہیں ہے اور وہ دوسرے پارٹنربھی چن رہا ہے اور چین جیسے اپنے مخالف ملکوں کے ساتھ بھی پارٹنر شپ کے لیے تیار ہے۔‘

’تاہم دباؤ کے باوجود وہ روس کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات برقرار رکھنا چاہے گا۔ ایس سی او میں جو وسطی ایشیا کے ممالک شامل ہیں ان سے انڈیا کے تعلقات سویت یونین کے زمانے سے چلے آ رہے ہیں۔ انڈیا ایس سی او کے ذریعے ان تعلقات کو مزید وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

نروپما مزید کہتی ہیں کہ ’انڈیا کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ ایس سی او کے عمل کو خراب نہ کرے۔ جب اسلام آباد کا سربراہی اجلاس آئے گا اس وقت یہ معلوم ہو گا کہ انڈیا کا اس اجلاس کے تئیں کتنا سنجیدہ ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’پہلے کے سربراہی اجلاس میں وزیر اعظم مودی جاتے رہے ہیں، اسلام آباد کے اجلاس میں وہ جاتے ہیں کہ نہیں یہ دیکھنا ہوگا۔ کیونکہ سارک دس برس سے رکا ہوا ہے۔ سارک کا سربراہی اجلاس نومبر 2016 میں اسلام آباد میں ہونا تھا لیکن اوڑی میں حملے کے بعد وزیر اعظم وہاں نہیں گئے۔‘

’اگر مودی ایس سی او کے سربراہی اجلاس میں شرکت کرتے ہیں تو کیا وہ سارک میں بھی جا سکتے ہیں؟ یہ سوال بھی اٹھے گا۔‘

امریکی تھنک ٹینک سٹمسن سینٹر میں جنوبی ایشیا پروگرام کی ڈائریکٹر اور سینیئر فیلو الزبتھ تھریلکیلڈ نے بھی انڈیا کے وفد کے پاکستان آنے پر اپنے خیالات کا اظہار ایکس پر کیا۔

الزبتھ تھریلکیلڈ نے لکھا کہ ’غیر سرکاری طور پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان رابطوں سے متعلق سامنے آنے والی متعدد رپورٹس کے درمیان یہ ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے، انڈیا نے جمعے کو پاکستان کی سربراہی میں اسلام آباد میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سرحدی خدمات کے سربراہان کے 12ویں اجلاس میں شرکت کی۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US