اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے اماراتی پرواز میں پیش آنے والے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائلٹ کی بروقت مزاحمت نے ایک انتہائی سنگین حادثے کو ٹال دیا۔ ان کے مطابق اگر صورتحال پر قابو نہ پایا جاتا تو اس کے نتائج اسرائیل کے ساتھ عالمی فضائی سفر کے لیے بھی تشویشناک ہوسکتے تھے۔
امریکی میڈیا سے گفتگو میں نیتن یاہو نے بتایا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی معاملے پر بات کی۔ انہوں نے پائلٹ کے اقدام کو بہادری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے مبینہ طور پر طیارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش ناکام بنائی۔
اسرائیلی وزیرِاعظم کے مطابق حکام کو واقعے سے پہلے کسی ممکنہ خطرے کی اطلاع یا انٹیلی جنس معلومات نہیں ملی تھیں۔ اب تحقیقات کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اصل صورتحال کیا تھی اور مبینہ حملہ آور کے ارادے کیا تھے۔
ایران کے ممکنہ کردار سے متعلق سوال پر نیتن یاہو نے کہا کہ اس مرحلے پر کسی نتیجے تک پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں یہ پہلو بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ آیا واقعے کے پیچھے کوئی دوسرا فرد، گروہ یا ملک موجود تھا۔
نیتن یاہو کے مطابق مبینہ حملہ آور پائلٹ سے سعودی عرب میں پوچھ گچھ کی جارہی ہے اور اسے مزید تحقیقات کے لیے متحدہ عرب امارات منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اس معاملے کی تحقیقات میں شامل ہوسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید سے بھی اس معاملے پر بات ہوئی ہے اور تحقیقات میں اسرائیلی شمولیت پر اتفاق کیا گیا ہے۔
اسرائیلی حکام نے واقعے کو دہشت گردانہ حملے کی مبینہ کوشش قرار دیا ہے، تاہم پائلٹ کے ممکنہ محرکات اور واقعے کے مکمل پس منظر سے متعلق حتمی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔