امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ممکنہ فوجی کارروائی کا اشارہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کے ساتھ کسی سمجھوتے تک پہنچنا ہوگا، بصورت دیگر امریکا مزید سخت قدم اٹھا سکتا ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے بہت جلد نئی پیش رفت سامنے آسکتی ہے۔
اسی دوران امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کوانٹیکو میں فوجی قیادت سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حالیہ کارروائیوں سے ایران کی عسکری صلاحیت کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق بحری اور فضائی قوت کے ساتھ دفاعی نظام، فوجی تنصیبات اور جوہری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق تہران نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے معاملے پر واشنگٹن کی جوابی تجویز موصول ہوگئی ہے۔ ایرانی قیادت اب اس پیشکش کا جائزہ لے رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ رابطے موجودہ تنازع میں پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنے اور کسی ممکنہ حل تک پہنچنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب برطانوی وزیرِاعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ برطانیہ میں امریکی افواج کے زیرِ استعمال رائل ایئر فورس فیئر فورڈ کے قریب پیش آنے والے سیکیورٹی واقعے میں ایران کے ممکنہ کردار سے متعلق شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایک طرف فوجی دباؤ اور سخت بیانات سامنے آرہے ہیں تو دوسری جانب مذاکرات کا راستہ بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ اب توجہ اس بات پر ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے بتائی گئی نئی پیش رفت سفارتی ہوگی یا فوجی۔