وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کے دستیاب ذخائر کو مستقبل کی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی قرار دیتے ہوئے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق متعلقہ وفاقی وزارت کا کہنا ہے کہ صوبوں کی گندم کی مجموعی ضرورت پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے موجودہ ذخائر سے زیادہ ہے، جس کے باعث طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جائے گی۔
حکام کے مطابق درآمدی عمل مکمل ہونے تک پاسکو کے ذخائر سے صوبوں کو ان کی ضروریات کے مطابق گندم کی فراہمی جاری رکھی جائے گی تاکہ کسی بھی قسم کی قلت پیدا نہ ہو۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ گندم کی دستیابی، قیمتوں اور صوبوں کو سپلائی کے نظام سے متعلق وفاقی حکومت اور تمام صوبوں کے درمیان تفصیلی مشاورت بھی کی گئی، جس میں آئندہ کی ضروریات اور حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا۔