پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جہاں سابق صوبائی کابینہ کے بعض اراکین نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کارکردگی اور طرزِ حکمرانی پر کھل کر تنقید کی، جبکہ اجلاس کے دوران تلخ کلامی بھی ہوئی۔
ذرائع کے مطابق اراکینِ اسمبلی نے وزیراعلیٰ پر الزام عائد کیا کہ وہ منتخب نمائندوں کو نظر انداز کر رہے ہیں اور اہم فیصلے صرف اپنی “کچن کابینہ” سے مشاورت کے بعد کرتے ہیں۔
اجلاس میں پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی سجاد بارکوال، نیک محمد اور علی شاہ خان نے وزیراعلیٰ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
سجاد بارکوال نے کہا کہ 5 اگست کو ہونے والے جلسے کے حوالے سے بھی ارکانِ اسمبلی سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ صرف اپنی کچن کابینہ سے مشورہ کرتے ہیں اور دیگر منتخب نمائندوں کو مشاورت کے قابل نہیں سمجھتے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پارٹی امور، تنظیمی فیصلوں اور حکومتی طرزِ عمل پر بھی مختلف اراکین نے تحفظات کا اظہار کیا، تاہم اجلاس کے بعد اس حوالے سے باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔