محکمہ داخلہ پنجاب نے مون سون کے دوران انسانی جانوں کے تحفظ کے پیش نظر صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بارش کے جمع شدہ پانی، دریاؤں، نہروں، ڈیموں، تالابوں اور جھیلوں میں تیراکی اور دیگر خطرناک سرگرمیوں پر 60 روز کے لیے پابندی عائد کردی ہے۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق گلیوں، سڑکوں، کھلی جگہوں اور عوامی مقامات پر جمع ہونے والے بارش کے پانی میں نہانے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ اسی طرح ڈیموں، دریاؤں، نہروں، تالابوں، جھیلوں اور ڈسٹری بیوٹریز میں ہر قسم کی تیراکی پر پابندی نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ ان آبی ذخائر میں متعلقہ اجازت کے بغیر کشتی رانی بھی ممنوع قرار دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ پابندیاں ضابطہ فوجداری 1898 کے سیکشن 144 کے تحت نافذ کی گئی ہیں۔ محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ حالیہ شدید مون سون بارشوں کے باعث مختلف علاقوں میں پانی جمع ہونے اور دریاؤں، نہروں، ڈیموں اور جھیلوں میں پانی کی سطح بلند ہونے سے حادثات کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر یہ احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔
محکمہ داخلہ نے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ دفعہ 144 پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ عوام کو پابندیوں سے آگاہ کرنے کے لیے بھرپور تشہیری مہم بھی چلائی جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے۔