اسلام آباد ہائی کورٹ نے 11 ارب روپے کے سپر ٹیکس سے متعلق نجی بینک کی آئینی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مؤثر متبادل قانونی فورم موجود ہونے کی صورت میں آئینی درخواست قابلِ سماعت نہیں ہوتی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 4C کے اطلاق سے متعلق قانونی سوال پر وفاقی آئینی عدالت پہلے ہی حتمی فیصلہ دے چکی ہے۔
کیس کی سماعت کے دوران نجی بینک کی جانب سے ڈاکٹر فروغ نسیم پیش ہوئے، جبکہ وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی نمائندگی حافظ احسان احمد کھوکھر نے کی۔
عدالت نے نجی بینک کے حق میں پہلے جاری کیا گیا حکمِ امتناع بھی ختم کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایڈیشنل کمشنر ان لینڈ ریونیو، لارج ٹیکس آفس (ایل ٹی او) کراچی کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس کو حتمی حکم کے ذریعے پہلے ہی نمٹایا جا چکا ہے، جبکہ درخواست گزار اس حکم کے خلاف ایپلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو میں اپیل بھی دائر کرچکا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید قرار دیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے ایک مکمل اپیل کا نظام فراہم کرتا ہے، اس لیے جب درخواست گزار متعلقہ قانونی فورم سے رجوع کر چکا ہو تو وہ اسی معاملے پر بیک وقت آئینی درخواست دائر نہیں کرسکتا۔