وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) مکئی سے متعلق قائم کمیٹی کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان میں جی ایم مکئی ٹیکنالوجی اپنانے سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ کمیٹی سائنسی شواہد، تکنیکی مہارت اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کی روشنی میں تمام متعلقہ فریقین کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے اتفاقِ رائے پر مبنی سفارشات تیار کرے۔
اجلاس میں گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد، پالیسی دستاویزات اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے موصول ہونے والی تحریری تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے جی ایم مکئی ٹیکنالوجی کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافے، غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے، درآمدی انحصار کم کرنے اور زرعی شعبے کی مسابقت بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ ساتھ ہی مکئی کی مقامی ملنگ انڈسٹری، برآمدی منڈیوں اور موجودہ زرعی ویلیو چین کے تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس میں جی ایم اور نان جی ایم مکئی کے بیک وقت استعمال، ریگولیٹری نگرانی، بایو سیفٹی پروٹوکول، ٹریس ایبلٹی، ذخیرہ سازی کے نظام اور سپلائی چین مینجمنٹ سے متعلق تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نئی ٹیکنالوجی کے مرحلہ وار نفاذ کے لیے مؤثر ریگولیٹری نگرانی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک جامع ٹرانزیشن فریم ورک تشکیل دینا ضروری ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں جدت اور موجودہ صنعتوں کے تحفظ کو ساتھ لے کر چلنا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایم اور نان جی ایم مکئی کا ایک ساتھ وجود ممکن ہے، تاہم اس کے لیے مضبوط ریگولیٹری فریم ورک اور مؤثر سپلائی چین انتظامات ناگزیر ہیں تاکہ پاکستان کے زرعی اور برآمدی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ متعلقہ سرکاری اداروں، صنعت، برآمد کنندگان اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا، جو ریگولیٹری فریم ورک، ٹرانزیشن حکمت عملی، بایو سیفٹی اقدامات اور سپلائی چین سے متعلق اتفاقِ رائے پر مبنی سفارشات تیار کرکے کمیٹی کو پیش کرے گا۔
وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ ورکنگ گروپ تمام اسٹیک ہولڈرز سے قریبی مشاورت کرتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر اپنی سفارشات مرتب کرے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت جدید زرعی ٹیکنالوجی اور جدت کے فروغ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے زرعی شعبے اور برآمدی مفادات کے تحفظ کے لیے بھی پرعزم ہے۔
اجلاس میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت و غذائی تحفظ، سیکریٹری قومی غذائی تحفظ و تحقیق، پاکستان گرین انیشی ایٹو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، کاروباری و برآمدی شعبوں کے نمائندوں اور زرعی و سائنسی ماہرین نے شرکت کی۔