وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی سطح کے مربوط ڈیجیٹل پالیسی فریم ورک پر عمل درآمد کو تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام قائم کیے گئے مرکزی ڈیٹا سینٹر “Sky 47” کی سہولیات فوری طور پر تمام وفاقی اداروں کو فراہم کی جائیں تاکہ قومی وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جاسکے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت قومی ڈیجیٹل ویژن پر پیش رفت کے جائزہ اجلاس میں مختلف منصوبوں اور ڈیجیٹل اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پبلک سیکٹر میں ایک قومی سطح کا مرکزی ڈیٹا سینٹر تمام سرکاری اداروں کے ڈیٹا کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کرے گا، جبکہ مختلف اداروں کی جانب سے الگ الگ ڈیٹا سینٹرز کے قیام کی ضرورت ختم ہونے سے قومی وسائل کی بچت ہوگی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی حکومتی خدمات، شہری سہولیات اور انتظامی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق قومی ڈیجیٹل ویژن ایک مربوط، مؤثر اور جدید معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی ڈیجیٹل ویژن کے تین بنیادی ستون، ڈیجیٹل معیشت، ڈیجیٹل شہری سہولیات اور ڈیجیٹل حکومتی خدمات پر ہونے والی پیش رفت حوصلہ افزا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی پر مؤثر عمل درآمد سے عالمی شراکت داری مضبوط ہوگی اور بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی مؤثر نمائندگی ممکن ہو سکے گی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام متعلقہ اداروں کی مشاورت سے قومی ڈیجیٹل ویژن پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ حکومتی اداروں کی فیصلہ سازی، کارکردگی اور شفافیت کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قومی ڈیجیٹل ویژن کے پہلے مرحلے میں صحت، زراعت، خوراک، توانائی، ہاؤسنگ، یوٹیلیٹیز اور چھوٹے و درمیانے درجے کے صنعتی و تجارتی اداروں (SMEs) کو ترجیح دی جائے گی تاکہ عوام کو جدید اور معیاری خدمات جلد از جلد فراہم کی جا سکیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد شہری ایک ہی ڈیجیٹل شناخت (Digital ID) کے ذریعے حکومتی دستاویزات کی تصدیق، بینکاری، صحت، مالیاتی منتقلی اور دیگر سرکاری خدمات ایک ہی پلیٹ فارم سے حاصل کر سکیں گے۔
وزیراعظم نے نیشنل ڈیجیٹل کمیشن کا اجلاس جلد طلب کرنے کی ہدایت بھی کی تاکہ تمام صوبوں اور دیگر شراکت داروں کو قومی ڈیجیٹل ویژن پر اعتماد میں لیا جا سکے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کے تحت قائم نیشنل ڈیجیٹل کمیشن کے سربراہ وزیراعظم ہیں جبکہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اس کے ارکان ہیں۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ہاؤسنگ کے شعبے میں اس نظام کے نفاذ سے تمام سرکاری و نجی جائیدادوں کے لیے ایک منفرد مرکزی شناختی نمبر جاری کیا جا سکے گا، جبکہ ایس ایم ایز کے شعبے میں کاروبار کی منفرد قانونی شناخت کا مربوط نظام تشکیل دیا جائے گا، جس سے صنعتی، تجارتی اور معاشی سرگرمیوں میں مزید بہتری آئے گی۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ قومی ڈیجیٹل ویژن پر مکمل عمل درآمد کے لیے قانونی، انتظامی اور ادارہ جاتی اقدامات تیزی سے جاری ہیں اور اس سلسلے میں عالمی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں کے تجربات اور بہترین طریقہ کار سے بھی استفادہ کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، جام کمال خان، اعظم نذیر تارڑ، عطاء اللہ تارڑ، سید مصطفیٰ کمال، شزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔