ہر کرپٹو ٹرانزیکشن کو فراڈ قرار نہیں دیا جا سکتا، لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

image

لاہور ہائیکورٹ نے کرپٹو کرنسی سے متعلق ایک اہم مقدمے میں قرار دیا ہے کہ ہر کرپٹو ٹریڈنگ یا مالی لین دین کو خودکار طور پر فراڈ نہیں کہا جا سکتا جبکہ صرف کسی شخص کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہونا جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے ملزم حماد علی کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے کرپٹو کرنسی سے متعلق مقدمات میں ایک اہم عدالتی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کسی کرپٹو اکاؤنٹ کے منجمد ہونے کی بنیاد پر ہر پی ٹو پی (P2P) مرچنٹ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا جبکہ آن لائن کرپٹو ٹرانزیکشن بذاتِ خود الیکٹرانک فراڈ کے زمرے میں نہیں آتی۔

فیصلے کے مطابق کرپٹو اثاثے پاکستان میں قانونی کرنسی (لیگل ٹینڈر) نہیں، تاہم انہیں غیر قانونی بھی قرار نہیں دیا گیا۔ عدالت نے مزید واضح کیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا 2018 کا سرکلر نجی افراد کو محض کرپٹو لین دین کی بنیاد پر خود بخود مجرم نہیں بناتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ کرپٹو سے متعلق مقدمات میں ہر ملزم کا انفرادی کردار اور مبینہ جرم میں اس کی شمولیت ٹھوس شواہد سے ثابت کرنا ضروری ہے جبکہ صرف مفروضوں کی بنیاد پر قانونی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ تفتیش کے لیے ہر مقدمے میں گرفتاری ناگزیر نہیں ہوتی اور ایسے مقدمات کا فیصلہ دستیاب شواہد اور حقائق کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔ عدالت نے ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانت برقرار رکھنے کا حکم بھی دے دیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US