ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے ملک میں موجودہ انتظامی ڈھانچے پر شدید تنقید کرتے ہوئے مزید انتظامی یونٹس یا صوبوں کی تشکیل کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک وفاق اور چار صوبوں پر مشتمل موجودہ نظام اب ناکارہ ہو چکا ہے اور اتنی بڑی آبادی والے ملک کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے نئے انتظامی یونٹس بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک کا موجودہ سسٹم تباہی کے دہانے پر ہے جہاں بغیر کسی سمت کے کام چلایا جا رہا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے ہیلتھ کیئر سسٹم کی ابتر صورتحال کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے 68 فیصد بچے آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہیں اور سیوریج کے پانی کو صاف کرنے کا کوئی معقول انتظام موجود نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آبادی میں اضافے کی شرح ساڑھے تین فیصد تک پہنچ چکی ہے اور ہر سال 11 ہزار مائیں دورانِ زچگی دم توڑ دیتی ہیں جو کہ ایک تشویشناک امر ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نرسنگ کے شعبے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو نو لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی پاکستانی نرسوں کی بڑی مانگ موجود ہے جس سے زرِ مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔
ادویات کے بحران اور قیمتوں پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ ادویات کی قیمتوں کا تعین وزیرِ صحت کا کام نہیں بلکہ ڈریپ اور وفاقی کابینہ کی کمیٹی کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں دوائیں بننے کے باوجود خام مال (API) باہر سے منگوانا پڑتا ہے، جس کے باعث مارکیٹ سے ضروری دوائیں غائب ہو جاتی ہیں اور بلیک میں دگنی قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں۔
مصطفیٰ کمال کے اس بیان سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کی حمایت کی تھی۔