بھارت نے ایک بار پھر دریاؤں میں پانی چھوڑنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے سلال ڈیم کے بعد بگلیہار ڈیم سے بھی پانی کا نیا سیلابی ریلہ چھوڑ دیا ہے، جس کے باعث پاکستان میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارت اس سے قبل سلال ڈیم سے گیارہ مرتبہ پانی چھوڑ چکا ہے، جبکہ تازہ اقدام کے تحت بگلیہار ڈیم سے بھی پانی کا اخراج شروع کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مسلسل آبی سرگرمیوں کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق بھارت سے تقریباً 90 ہزار کیوسک پانی کا ریلہ پاکستان میں داخل ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی بھارت کی جانب سے سلال ڈیم سے مسلسل گیارہویں مرتبہ پانی چھوڑنے کے بعد پاکستان میں فلڈ الرٹ جاری کیا گیا تھا، جبکہ تازہ صورتحال کے بعد متعلقہ اداروں نے عوام سے محتاط رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔