متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے کئی ماہ کی غیر یقینی صورتحال کے بعد پاکستانی شہریوں کے لیے وزٹ ویزوں کے اجرا میں نمایاں نرمی کر دی ہے، جس کے بعد رجسٹرڈ ٹریول ایجنسیوں کے ذریعے درخواست دینے والے پاکستانیوں، خصوصاً خاندانوں کے ہمراہ سفر کرنے والوں، کو ویزے پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے جاری کیے جا رہے ہیں۔
ٹریول ایجنٹس کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ ٹریول ایجنسیوں کے ذریعے جمع کرائی جانے والی وزٹ ویزا درخواستوں کی منظوری کا عمل تیز ہو گیا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات میں مقیم اپنے عزیزوں سے ملاقات کے لیے جانے والے پاکستانیوں کی درخواستیں بھی جلد منظور ہو رہی ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں تقریباً 18 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں اور یہ ملک پاکستان کے لیے ترسیلات زر کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ گزشتہ کئی ماہ کے دوران پاکستانی شہریوں کو ویزوں کے اجرا میں تاخیر اور سخت جانچ پڑتال کا سامنا رہا، تاہم پاکستان اور یو اے ای مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ پاکستانیوں پر کسی قسم کی باضابطہ ویزا پابندی عائد نہیں کی گئی۔
اروما ٹریولز کے چیف ایگزیکٹو اور ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان (TAAP) کے سابق چیئرمین محمد ندیم شریف نے اس پیشرفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی خاندانوں کے لیے وزٹ ویزوں کے اجرا سے سیاحتی سرگرمیوں میں بھی دوبارہ تیزی آنا شروع ہو گئی ہے اور مسافروں کی تعداد بتدریج بڑھ رہی ہے۔
امیگریشن حکام کے مطابق موسم گرما کے آغاز میں پاکستان سے دبئی جانے والے مسافروں کی یومیہ تعداد تقریباً 170 تھی، جو جولائی کے آخری ہفتے تک بڑھ کر تقریباً 400 ہو گئی۔ تاہم یہ تعداد اب بھی دو سال قبل ریکارڈ کیے گئے یومیہ تقریباً ایک ہزار مسافروں سے کم ہے۔
ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے عہدیدار محمد حنیف رنچ نے بھی صورتحال میں بہتری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے سے خاندانوں کے ساتھ سفر کرنے والے پاکستانیوں کی ویزا درخواستیں بڑی تعداد میں منظور ہو رہی ہیں۔
پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی کہ رجسٹرڈ ٹریول ایجنسیوں کے ذریعے درخواست دینے والے عام پاسپورٹ رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو وزٹ ویزے جاری کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بعض اوقات کارروائی میں تاخیر ضرور ہوئی، تاہم مکمل دستاویزات رکھنے والے درخواست گزار اب بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے ویزوں کے اجرا میں سہولت فراہم کرنے کے اقدامات پر اتفاق کیا تھا، جبکہ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق جعلی تعلیمی اسناد، فرضی ملازمت کے معاہدوں، بعض افراد کی مجرمانہ سرگرمیوں اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے باعث اماراتی حکام نے جانچ پڑتال کا عمل مزید سخت کر دیا تھا۔