سینیٹر شیری رحمان نے آزاد کشمیر کے مختلف حلقوں میں پولنگ کے عمل میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹ کے تقدس پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جا سکتا اور ہر ووٹر کو بلا رکاوٹ اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ انتخابی عملے کی تاخیر کے باعث ووٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ متعدد پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ مقررہ وقت پر شروع نہ ہونے سے انتخابی انتظامات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق حلقہ ایل اے-28، ایل اے-31، ایل اے-25 اور ایل اے-34 کے کئی پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ کا عمل تاخیر کا شکار رہا۔
شیری رحمان نے کہا کہ حلقہ ایل اے-31 کے پولنگ اسٹیشن شرک کمال باندی میں خواتین کے پولنگ اسٹیشن پر صرف ایک پولیس اہلکار تعینات ہے، حالانکہ اس پولنگ اسٹیشن کو پہلے ہی حساس قرار دیا گیا تھا۔
انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر کے حلقہ ایل اے-31 میں رنگلہ سے کٹکئیر جانے والی سڑک کی بندش کا فوری نوٹس لیا جائے۔ ان کے مطابق گزشتہ رات سے سڑک بند ہونے کے باعث ووٹرز کو لے جانے والی 50 سے زائد گاڑیاں راستے میں پھنس گئی ہیں، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں ووٹرز اپنے پولنگ اسٹیشنز تک پہنچنے سے محروم ہیں۔
سینیٹر شیری رحمان نے بتایا کہ پولنگ میں تاخیر اور دیگر مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق متعدد تحریری شکایات الیکشن کمیشن کو ارسال کردی گئی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ پولنگ اسٹیشنز کے معاملات کی فوری تحقیقات کی جائیں اور ووٹنگ کے عمل کو بلا تاخیر یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شفاف، آزاد اور غیرجانبدار انتخابات ہی جمہوری نظام کی بنیاد ہیں اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ تمام ووٹرز کو آزادانہ ماحول میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کا موقع فراہم کرے۔