بلوچستان کے ضلع خاران میں مبینہ طور پر سوشل میڈیا پروپیگنڈے کے مقصد سے داخل ہونے والے فتنہ الہندوستان سے منسلک دہشتگرد سیکیورٹی فورسز کے مؤثر ردعمل کے بعد فرار ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی مسلسل اور مؤثر کارروائیوں کے باعث فتنہ الہندوستان کی سرگرمیاں محدود ہو کر سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈے تک رہ گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگرد مختلف علاقوں میں سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا کر تصاویر اور ویڈیوز بناتے ہیں، جنہیں بعد ازاں جھوٹا بیانیہ تشکیل دینے کے لیے سوشل میڈیا پر استعمال کیا جاتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ خاران میں بھی دہشتگردوں نے اسی مقصد کے تحت دراندازی کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت موجودگی اور مؤثر کارروائی کے باعث وہ اپنے عزائم میں کامیاب نہ ہو سکے اور فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق فرار کے دوران دہشتگردوں کی اندھا دھند فائرنگ اور شیلنگ کے نتیجے میں معصوم بچوں سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنے مقاصد میں ناکامی کے بعد شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا دہشتگردوں کی بوکھلاہٹ اور مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈا اور میدان میں پسپائی اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشتگرد تنظیم کو سیکیورٹی فورسز کے مؤثر اقدامات کے باعث مسلسل ناکامی کا سامنا ہے۔