پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران مبینہ دھاندلی اور بے ضابطگیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انتخابی نتائج مسترد کرنے کا عندیہ دے دیا۔
سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجا پرویز اشرف نے مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں پر ہونے والے انتخابات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ملک کے حالات کو مزید خراب کرنے کی طرف لے جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور بے قاعدگیوں کے باعث پیپلز پارٹی کو انتخابات کے نتائج مسترد کرنے چاہئیں جبکہ ان کی ذاتی رائے ہے کہ پارٹی کو تیسرے مرحلے کے انتخابات کا بھی بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ پارٹی کی مرکزی قیادت کرے گی۔
راجا پرویز اشرف نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن حکمران جماعت کے زیر اثر کام کر رہا ہے اور تمام صورتحال کے ذمہ دار چیف الیکشن کمشنر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں وجود میں آنے والی اسمبلی عوامی مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی جبکہ غیرشفاف انتخابات کے نتائج کو عوام قبول نہیں کریں گے۔
پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر بخاری نے بھی آزاد کشمیر کے انتخابات کو غیرشفاف اور مبینہ طور پر دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی ان انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کرے گی۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات میں انہیں فارم 47 جیسے حالات نظر آ رہے ہیں جبکہ ان کے بقول آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کا کردار بھی مشکوک ہو چکا ہے۔
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے بھی انتخابی عمل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایسے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت کی ساکھ متاثر ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر کا انتخاب پیپلز پارٹی سے چھین لیا گیا ہے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابی عمل پر اٹھائے گئے اعتراضات کے بعد سیاسی صورتحال میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ اس حوالے سے الیکشن کمیشن یا دیگر متعلقہ اداروں کا باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔