قصور کی تحصیل پتوکی سے تعلق رکھنے والا 50 سالہ فرید اللہ ریبیز کے باعث لاہور میں انتقال کرگیا۔
ذرائع کے مطابق انہیں 17 جولائی 2026 کو کتے نے چہرے اور بائیں بازو پر کاٹا تھا، جس کے بعد ان میں ریبیز کی علامات ظاہر ہوئیں اور دورانِ علاج وہ جانبر نہ ہوسکے۔
رواں سال لاہور میں ریبیز کے باعث یہ چوتھی ہلاکت سامنے آئی ہے، جس پر طبی ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) لاہور کے صدر پروفیسر شاہد ملک نے ریبیز کے بڑھتے ہوئے کیسز پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومتِ پنجاب، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ بلدیاتی اداروں سے آوارہ اور خطرناک کتوں کے خلاف فوری اور مؤثر کریک ڈاؤن کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کی شق 3 کے تحت اسسٹنٹ کمشنرز کو خطرناک جانوروں کے خلاف کارروائی کے اختیارات حاصل ہیں، لہٰذا قانون پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مزید قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ممکن بنایا جاسکے۔
پی ایم اے لاہور نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت میں اینٹی ریبیز ویکسین اور ریبیز امیونوگلوبیولن کی بلا تعطل دستیابی یقینی بنائی جائے، تاکہ کتے کے کاٹنے کے متاثرین کو بروقت اور مؤثر علاج فراہم کیا جاسکے۔