سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیے جانے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے عدالت میں تفصیلی تحریری جواب جمع کرا دیا۔
عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں کسی بھی قیدی، بشمول بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق انہیں جیل قوانین کے تحت دیگر قیدیوں کی طرح تمام قانونی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی یا غیر مساوی سلوک نہیں کیا جا رہا۔
سپریٹنڈنٹ جیل نے عدالت کو بتایا کہ بشریٰ بی بی سابق وزیراعظم کی اہلیہ ہونے کے باعث ان کی سیکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اسی وجہ سے عام خواتین قیدیوں کو ان تک رسائی نہیں دی جاتی تاکہ ان کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کو ایک بڑے کمرے، علیحدہ صحن اور الگ باورچی خانے پر مشتمل رہائشی جگہ فراہم کی گئی ہے جہاں وہ دن کے اوقات میں آزادانہ نقل و حرکت کر سکتی ہیں جبکہ رات کو جیل قواعد کے مطابق کمرہ بند کیا جاتا ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ بشریٰ بی بی کی دیکھ بھال خواتین جیل افسران اور عملہ کرتا ہے جو ان کی روزمرہ ضروریات کا خیال رکھنے کے ساتھ ان کے مسائل بھی متعلقہ حکام تک پہنچاتے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ خاتون میڈیکل آفیسر روزانہ کم از کم دو مرتبہ ان کا طبی معائنہ کرتی ہیں، بلڈ پریشر سمیت دیگر ضروری طبی علامات کا جائزہ لیا جاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر خصوصی طبی معائنہ بھی کرایا جاتا ہے۔
جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ دو خواتین ملازمین ہر وقت بشریٰ بی بی کی خدمت پر مامور ہیں جو جیل کے مقررہ مینو کے مطابق روزانہ تین وقت کا کھانا تیار کرتی ہیں اور ان کی دیگر ضروریات بھی پوری کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انہیں قدرتی روشنی، تازہ ہوا اور صبح سے شام تک جیل قواعد کے مطابق آزادانہ نقل و حرکت کی سہولت بھی حاصل ہے۔
سپریٹنڈنٹ جیل نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا کہ بشریٰ بی بی کو جیل مینوئل کے مطابق ہر منگل اپنے شوہر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کی رہائشی اور حراستی سہولیات تسلی بخش ہیں اور انہیں قیدِ تنہائی میں رکھنے کا تاثر حقائق کے منافی ہے۔
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ مبشرہ مانیکا کی جانب سے دائر درخواست کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا جائے۔