دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کے دورۂ سعودی عرب، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، فلسطین، پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں، انسدادِ دہشت گردی اور مسئلہ کشمیر سے متعلق پاکستان کے مؤقف پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف 6 سے 8 اگست تک سعودی عرب کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں، جہاں وہ اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی امور، اسٹریٹجک تعاون اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوگا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اردن میں یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کے بعد مدینہ منورہ سے پاکستانی وفد میں شامل ہوں گے۔
ترجمان نے کہا کہ خلیجی خطے میں کشیدگی کے باوجود پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر اور باب المندب کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور عمان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 30 جولائی کو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی صورتحال، بحیرہ احمر، باب المندب اور فلسطین کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ 3 اگست کو ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے گفتگو میں مقبوضہ مشرقی یروشلم سمیت علاقائی صورتحال پر بات چیت کی گئی اور انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی گئی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے 5 اگست کو اردن کے دارالحکومت عمان میں یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کی، جہاں پاکستان نے فلسطینی عوام کی حمایت اور 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے پر مشتمل آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے اردن، ترکیہ، مصر، الجزائر، عراق اور صومالیہ کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے بتایا کہ مصر، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل آر-4 گروپ کے وزرائے خارجہ نے بھی عمان میں اجلاس کیا، جس میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے سفارتی رابطوں اور باہمی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ 5 اگست کو واشنگٹن میں پاکستان اور امریکا کے درمیان انسدادِ دہشت گردی مذاکرات کا چوتھا دور بھی منعقد ہوا، جس میں پاکستانی وفد کی قیادت اسپیشل سیکرٹری سفیر نبیل منیر نے کی۔ مذاکرات میں دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف تعاون، سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے اور داعش خراسان، القاعدہ، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 4 اگست کو آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سینئر آفیشلز مذاکرات اور مشترکہ تجارتی کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں سیاسی، اقتصادی، تجارتی، سکیورٹی اور علاقائی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر منایا اور بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی و یکطرفہ اقدامات کی ساتویں برسی کے موقع پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔