حکومتِ پاکستان نے پرائیویٹ حج کے نظام میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے اسے پہلی مرتبہ وزارتِ مذہبی امور کی براہِ راست نگرانی میں لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت پرائیویٹ حج کی بکنگ، معاہدوں کی تکمیل اور تمام مالی ادائیگیاں اب پرائیویٹ آپریٹرز کے بجائے وزارتِ مذہبی امور کی سرکاری ’پاک حج ایپ‘ کے ذریعے انجام دی جائیں گی۔
وزارتِ مذہبی امور کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نیا ڈیجیٹل نظام سعودی عرب کے ”نسک مسار“ سسٹم کی ہدایات کے مطابق متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ون ونڈو سسٹم قائم کیا جا رہا ہے، جس سے مالی معاملات میں شفافیت آئے گی اور ماضی میں سامنے آنے والے فراڈ یا بے ضابطگیوں کے امکانات کم ہوں گے۔
نئے نظام کے تحت سرکاری حج اسکیم کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ حج آپریشن کا مرکزی پلیٹ فارم بھی پاک حج ایپ ہوگی۔ عازمین ایپ پر دستیاب مختلف پرائیویٹ حج پیکجز کا جائزہ لے کر اپنی پسند کی مجاز کمپنی کا انتخاب کرسکیں گے۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ مذہبی امور کے تحت 25 مجاز پرائیویٹ حج کمپنیاں اپنی خدمات فراہم کریں گی، جبکہ اب تک ایک لاکھ پانچ ہزار پرائیویٹ عازمین پاک حج ایپ پر اپنی رجسٹریشن مکمل کرچکے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ 2027 سے 2030 تک پرائیویٹ حج آپریشن اسی نئے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت چلایا جائے گا۔ اس دوران عازمین کی رقوم، معاہدوں کی ضمانت اور آپریشنل امور کی مکمل نگرانی وزارتِ مذہبی امور کرے گی تاکہ حجاج کرام کو تمام طے شدہ سہولیات بروقت اور شفاف انداز میں فراہم کی جاسکیں۔