طب کی دنیا میں حمل کے ہفتوں کا حساب حاملہ خاتون کی آخری ماہواری کے پہلے دن سے شروع کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے طبی حساب کے مطابق کسی بھی خاتون کو حمل ٹھہرنے سے تقریباً دو ہفتے پہلے ہی حاملہ شمار کیا جاتا ہے
علامتی تصویر’میری شادی کو تو ابھی صرف ایک مہینہ ہوا ہے تو حمل کیسے دو مہینے کا ہو سکتا؟‘
ایک نو بیاہتا دلہن کی سسکیوں کے ساتھ ایک مردانہ آواز سنائی دیتی ہے۔ لیڈی ڈاکٹر اس مرد کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں کہ خاتون کو فلاں تاریخ کو ماہواری آئی اور اس کے فورا بعد شادی ہو گئی اس لیے یہ جلدی حاملہ ہو گئی۔
اسی دوران دو خواتین جو غالباً اس حاملہ ہونے والی خاتون کی ساس اور نند ہیں یہ سوال کرتی ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے شادی کو ایک ماہ ہوا اور بچہ دو مہینے کا کیسے؟ ڈاکٹر اپنا سر پکڑ لیتی ہیں اور سمجھاتی ہیں کہ ’آپ لوگوں کے نو ماہ پورے کرنے ہوتے ہیں اور ڈاکٹروں نے 10 مہینے، اس لیے ہم گذشتہ ماہواری کی تاریخ سے گنتے ہیں۔‘ ساتھ ہی وہ ڈاکٹر اس خاندان کو یقین دلاتی ہیں کہ یہ بچہ ان کے بھائی اور بیٹے کا ہی ہے، اور کہتی ہیں کہ ’اگر شک ہو تو پیدائش کے بعد بچے کا ڈی این اے کروا لیں۔‘یہ خاندان یہ طبی باریکیاں سمجھنے سے قاصر رہتا ہے اور ڈاکٹر اس دوران لڑکی کو رونے سے بھی منع کرتی ہے۔ ڈاکٹر یہ کافی طویل بحث خاتون کے شوہر سے یہ پوچھ کر سمیٹ دیتی ہیں کہ ’یہ تمہاری لو میرج ہے ناں، تمہیں اس پر یقین ہے؟‘ اثبات میں جواب ملنے پر وہ مبارکباد دے کر انھیں رخصت کر دیتی ہیں۔
یہ سارا منظر پاکستان میں وائرل ہوجانے والی ایک ویڈیو کا ہے جس نے نہ صرف سوشل میڈیا صارفین میں معاشرتی رویّوں کے حوالے سے بحث چھیڑ رکھی ہے بلکہ ڈاکٹروں کو اپنی قابلیت کے بجائے مریضوں اور معاشرے کی سمجھ بوجھ کے مطابق مریض کی حالت کو بیان کرنے کی ضرورت کو بھی نمایاں کیا ہے۔
پہلے ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ حمل کی مدت شمار کرنے کا طریقہ کیا ہوتا ہے اور یہ طبی نقطہ نظر سے کیوں مختلف ہے؟ اور یہ غلط فہمی کیوں پیدا ہوئی۔

ڈاکٹر نے چار ہفتے کے حمل کو دو ماہ کا کیوں کہا؟
اس سارے معاملے پر کیا اعتراضات اٹھے اور سوشل میڈیا پر کیا بحث ہو رہی ہے اس پر جانے سے پہلے ہم سمجھ لیتے ہیں کہ ڈاکٹر نے دوسرے مہینے کا حوالہ کیوں دیا۔
دراصل ڈاکٹروں کے مطابق طب کی دنیا میں حمل کے ہفتوں کا حساب حاملہ خاتون کی آخری ماہواری کے پہلے دن سے شروع کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے طبی حساب کے مطابق کسی بھی خاتون کو حمل ٹھہرنے سے تقریباً دو ہفتے پہلے ہی حاملہ شمار کیا جاتا ہے، حالانکہ اس وقت تک حمل ٹھہرا بھی نہیں ہوتا۔
ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ ایک نارمل صحت مند حمل کے لیے عمومی طور پر بہترین مدت 40 ہفتے سمجھے جاتی ہے جس میں حمل ٹھہرنے سے پہلے کے چار ہفتے بھی شمار کیے جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد یہ مجموعی طور پر 10 ماہ بنتے ہیں۔
ایک بین الاقوامی اصول کے تحت حمل کی مدت کا شمار رکھنے کے لیے ڈاکٹر آخری ماہواری کی تاریخ کو بنیاد بناتے ہیں کیونکہ یہ ایک واضح اور آسانی سے یاد رہنے والی تاریخ ہوتی ہے۔ عموماً بیضہ دانی سے انڈے کا اخراج اورحمل ٹھہرنے کا عمل ماہواری شروع ہونے کے تقریباً دو ہفتے بعد ہوتا ہے، اس لیے حمل کی گنتی اس سے پہلے والے مرحلے سے شروع کی جاتی ہے۔
یہی طریقہ دنیا بھر میں زچگی کے لیے متوقع تاریخ معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
حمل کی متوقع مدت کی تصدیق کے لیے ڈاکٹر ابتدائی الٹرا ساؤنڈ سکین بھی کر سکتے ہیں۔ اس سکین میں جنین کے سائز کو دیکھ کر متوقع تاریخِ ولادت کی جانچ کی جاتی ہے، اور اگر ضرورت ہو تو اس میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ 40 ہفتوں کا حساب کیوں رکھا جاتا ہے تو ماہرین کے بقول اس کا جواب یہ ہے کہ عام طور پر خواتین میں ماہواری کا چکر 28 دن ر مبنی ہوتا ہے۔ اگر کسی خاتون کا یہ سائیکل معمول سے کم یا زیادہ ہو، یا بیضہ دانی سے انڈہ جلدی یا دیر سے خارج ہو، تو ڈاکٹر متوقع تاریخ میں مناسب تبدیلی کر سکتے ہیں۔

’میڈیکل ٹرمز صرف میڈیکل کی دنیا کے لیے ہوتی ہیں‘
ڈاکٹر شمائلہ اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال میں گائنٹی ڈپارٹمنٹ کی ہیڈ ہیں اور ایک سینئیر گائناکالوجسٹ ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ حمل کا شمار ’پچھلی ماہواری سے اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ماں پچھلے سائیکل کے اوویولیشن دن پر حاملہ ہوتی ہے۔‘
یہ وہ وقت ہوتا ہے جب بیضہ دانی سے ایک صحت مند انڈہ خارج ہوتا ہے۔
وائرل ویڈیو میں ڈاکٹر بھی یہی کہتی ہیں کہ ’لڑکیوں کی شادی ماہواری کے فوراً بعد نہیں کروانی چاہیے تاکہ انھیں سسرال میں کم از کم ایک بار ماہواری ضروری آجائے۔‘
ڈاکٹرز کے مطابق اس کیس میں شاید لڑکی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ کیونکہ ڈاکٹرز اس کی ماہوری کی تاریخیں اس کی شادی سے عین پہلے کی بتا رہی تھیں۔
ڈاکٹر شمائلہ وضاحت کرتی ہیں کہ اوویولیشن کا وقت ’عموماً اگلی ماہواری سے 14 دنپہلے کا وقت ہوتا ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی اصول ہے کہ حمل کی مدت پچھلی ماہواری کے پہلے دن سے شمار ہوتی ہے۔‘
ڈاکٹر شمائلہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں عام لوگ اس سائنسی طریقے کا علم نہیں رکھتے۔اگر خواتین پڑھی لکھیں ہیں اور اس معاملے میں مدد دینی والی ایپس کا استعمال جانتی ہیں تو ان کے لیے سمجھنا اسان ہیں۔ لیکن او پی ڈیز میں آنے والی لگ بھگ نصف خواتین کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا۔ اور اگر دور دراز علاقوں کو بھی شامل کر لیں تو یہ شرح 90 فیصد تک چلی جاتی ہے جنھیں اس بارے میں قطعی علم نہیں ہے۔‘
پاکستان میں اگر شادی کے فوراً بعد پہلی بار ماں بننی والی خاتون کو اگر یہ کہا جائے کہ حمل کا دوسرا مہینہ ہے تو کیا وہ سمجھ جاتی ہیں؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تو خاتون کی تعلیم، پس منظر یا اس بارے میں ان کو حاصل معلومات پر منحصر ہے۔ زیادہ تر خواتین نہیں سمجھ پاتی۔‘
ڈاکٹر شمائلہ کے مطابق ’پاکستان میں 85 فیصد جوڑے پہلے ایک سال میں ہی حاملہ ہو جاتے ہیں۔ باقیوں کو حمل ٹھہرانے کے لیے طبی مد کی ضرورت پڑتی ہے۔ تاہم زیادہ عمر حمل ٹھہرنے کی رفتار میں سستی کا سبب بنتی ہے۔‘
وائرل ویڈیو کے تناظر میں دیکھا جائے تو اگر ایسی غلط فہمی پیدا ہو جائے کہ لڑکی شادی سے پہلے ہی حاملہ ہوگئی تھی تو ڈاکٹرز کس طرح خاندان والوں کی مطمئن کرتے ہیں کہ لڑکی کا کردار مشکوک نہ ہو؟
اس سوال پر ڈاکٹر شمائلہ کا کہنا تھا کہ ’ایسے میں کسی سینیئر ڈاکٹر سے خاندان یا جوڑے کی کونسلنگ کروائی جا سکتی ہے۔ اس بارے میں بین الاقومی گائیڈ لائنز موجود ہیں جن میں حمل کی مدت شمار کرنے کی تفصیل موجود ہے۔ اس کے علاوہ الٹراساؤنڈ کروا کر بھی مدد لی جا سکتی۔‘
انھوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ عام لوگوں کے سامنے طبی اصطلاحات کا استعمال مسائل کی وجہ بن سکتا ہے۔
وہ کہتی ہیں ’میڈیکل ٹرمز صرف میڈیکل کی دنیا کے لیے ہوتی ہیں۔ اگر ہم عام آدمی کے سامنے اس اصطلاحات کا استعمالکرنے اور پھر انھیں سمجھانے لگیں تو یہ غلط فہمیوں کا نتیجہ بنتی ہے۔ اس لیے ان سے گریز کرنا چاہیے۔ پاکستانی معاشرے میں ان کا غلط مطلب نکال لیا جاتا ہے۔ ‘
ڈاکٹر ماہ رخ راولپنڈی کے ایک گنجان آباد علاقے میں لگ بھگ دو دہائیوں سے ہسپتال کے ساتھ ساتھ کلینک چلا رہی ہیں۔ ان کے پاس ہر عمر اور طبقے کی حاملہ خواتین آتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں ’حمل کی مدت تو پچھلی ماہواری سے ہی شمار ہوتی ہے چاہے یہ شادی سے پہلے ہوئی ہو۔ یہ بات ہمیں تقریبا ہر مریض کو سمجھانی پڑتی ہے اور پہلی بار ماں بننے والی خواتین کو یہ بالکل پتا نہیں ہوتا۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ ’اگر کوئی غلط فہمی ہو بھی جائے تو ہم ہر ممکن طریقے سے خاندان کو مطمئن کرتے ہیں۔ میں اپنی بات کروں تو میڈیکل ٹرمز استعمال کرنے کے بعد میں انھیں اردو میں ان کی اچھی طرح وضاحت کرتی ہوں تاکہ مریض کے لیے کوئی ابہام نہ رہے۔ ‘
ڈاکٹر ماہ رخ کا کہنا ہے کہ ’میرے مریضوں میں ایسا شاید ہی کبھی ہوا ہو کہ سسرال والے کسی لڑکی کے جلد حاملہ ہونے پر شک کا شکار ہوگئے ہوں۔ البتہ ایک طبی حالت ایسی بھی ہوتی ہے جس میں غیر شادی شدہ لڑکیوں میں چھاتیوں میں دودھ آنے لگتا ہے۔ اسے ہائپر پرولیکٹینیمیا کہتے ہیں۔ اس کنڈیشن کے ساتھ ایک نو بیاہتا لڑکی میری پاس آئی تھی۔ جن کے شوہر کو طبی ٹیسٹوں کے بعد یہ سمجھایا گیا کہ ایسا ہو جاتا ہے۔ اس لیے لڑکی کا پہلے ماں بننا ضروری نہیں۔ وہ پریشان تھے اور انھیں سمجھانا تھوڑا مشکل تھا۔‘
ہائپرپرولیکٹینیمیا ایک طبی حالت ہے جس میں کسی لڑکی چاہے وہ کنواری ہو، اس کے خون میں پرولیکٹن ہارمون کی سطح معمول سے زیادہ ہوتی ہے۔ پرولیکٹن پٹیوٹری گلینڈ سے بنتا ہے، اور اس کا بنیادی کام جسم کو ماں کا دودھ بنانے میں مدد دینا ہے۔ اس کی زیادہ مقدار جنسی ہارمونز کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے بے قاعدہ حیض، زرخیزی کے مسائل، یا غیر متوقع دودھ پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر بحث: ’ڈاکٹر صاحبہ کو دیکھنا چاہیے کہ بات کن سے کر رہی ہیں‘
پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین اس ویڈیو میں سنائی دینے والے لڑکی کے سسرال والوں پر تو ناراض ہیں ہی جنھوں نے اس کا کردار مشکوک ٹھہرانا شورع کر دیا تاہم وہ زیادہ خفا ڈاکٹر پر ہیں۔
کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ طبی اخلاقیات میں ایک اصطلاح ہوتی ہے جسے ’ایفیکٹو کمیونیکیشن‘ کہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ڈاکٹر مریض یا اس کے اہلِ خانہ کو کسی بھی بیماری، تشخیص، علاج، ممکنہ خطرات اور دستیاب متبادل طریقوں کے بارے میں معلومات ایسی سادہ، واضح اور قابل فہم زبان میں فراہم کرنے کے پابند ہیں جو لوگوں کی کی تعلیمی سطح، زبان اور سمجھ کے مطابق ہو۔
یہی وجہ سے ہے کہ سوشل میڈیا صارفین ناراض ہوتے دکھائی دیے کہ ڈاکٹر کو پہلے ہی یہ نہیں کہنا چاہیے تھا کہ ’یہ دو ماہ کا حمل ہے۔‘
ایسی ہی ایک صارف شاہ بانو نے ایکس پر لکھا کہ ’بہت معذرت، ڈاکٹر صاحبہ کو یہ بھی تو دیکھنا چاہیے کہ بات کن سے کر رہی ہیں ، یہاں قصور ان کے کلائنٹس کا نہیں وہ سیدھے سادے لوگ ہیں، وہ ان کے پاس میڈیکل سائنس کا یا گائنی کا علم حاصل کرنے نہیں آئے تھے لہٰذا سادہ لوگوں سے سادہ طریقے سے بات کرنے کا علم بھی تو ہونا ضروری ہے ۔‘
ملک ندیم نامی صارف بھی اتفاق کرتے ہیں ’ڈاکٹر کو پتہ ہونا چاہیے کہ یہ معاملہ بہت سنجیدہ ہوتا ہے جب ایک مہینہ ہوا ہے شادی کو اور وہ لڑکی شادی کی پہلی رات ہی پریگنٹ ہو گی ہے تو میڈیکلی بےشک وہ دو مہینے ہی کاؤنٹ ہوں گے لیکن ہمارے معاشرے کے مطابق وہ ایک مہینہ ہی بنتا ہے لہذا ڈاکٹر کو سادہ زبان میں ان کو مبارک باد دے کر گھر بھیج دینا چاہیے تھا بجائے اس کے کہ وہ ان لوگوں کو میڈیکل پڑھانا شروع کردیا۔‘
ماریہ چوہدری نامی ایکس صارف نے لکھا کہ ’ایسے لاعلم، ناخواندہ لوگ سمجھتے ہیں کہ عورت پہلے مہینے میں حاملہ نہیں ہو سکتی۔ اللہ کی مرضی ہے کہ اگر وہ چاہے تو پہلے دن ہی اپنی رحمت عطا کر سکے، اور اگر نہ چاہے تو لاکھوں لوگوں کو اپنی پوری زندگی اولاد کی خواہش میں مبتلا رہنے دیتا ہے۔‘
کچھ صارفین پاکستانی معاشرے کے روایتی خاندانی رویوں سے نالاں نظر آئے۔
ایسے ہی ایک صارف سپر سویلین نامی ایکس ہیڈل نے لکھا ’ساس بھی کیا پتھر دل مخلوق ہوتی ہے! اللہ تعالی اس بچی کے لیے آگے آسانیاں فرمائے، اس کی اتنی بڑی خوشی میں زہریلی زبان سے کیسے زہر گھول رہی ہیں اور خود کو افلاطون سمجھ رہی ہیں، لڑکوں کو ایسے مٰعاملے پر فورا شٹ اپ کال دینی چاہیے۔‘
کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ڈاکٹر کی جانب سے حمل کی مدت طبی اصطلاح میں بتانے نے پسند کی شادی کے معاملے میں جلتی پر تیل کا کام کیا۔
ایک صارف تنویر شاہد نے لکھا چونکہ ’وہ بتا رہی ہیں کہ پسند کی شادی تو پھر شورتو بنتا ہے۔ کیسے کیسے لوگ ہیں؟ جس کی بیوی ہے اس کو شک نہیں، دوسروں کو شک ہے اور وہ بھی عورتیں ہیں۔‘
شاہ صاحب نامی صارف نے کہا کہ ’ان لوگوں کو ان کی زبان میں بتایا جانا چاہیے، نہ کہ طبی اصطلاحات میں، جیسے پہلے حیض کا نہ آنا یعنی چار ہفتے کا حمل۔ یہ بے وقوف بہت تیز رفتاری سے تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔‘