جب ہزاروں نوجوانوں نے گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں رونما ہونے والے سب سے بڑے حکومت مخالف احتجاجوں میں سے ایک کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی کا مذاق اڑانے والے میمز اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں تو ان ویڈیوز کے پس پشت موجود بہت سی خواتین کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی آواز بلند کرنے کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔
دلی میں طلبہ کے احتجاج کے مقام پر لپ سنکنگ اور طنز و مزاح کا انداز اپنانے والے نوجوانوں کی ویڈیوز صرف چند سیکنڈ پر مبنی تھیں۔
لیکن جب ہزاروں نوجوانوں نے گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں رونما ہونے والے سب سے بڑے حکومت مخالف احتجاجوں میں سے ایک کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی کا مذاق اڑانے والے میمز اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں تو ان ویڈیوز کے پس پشت موجود بہت سی خواتین کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی آواز بلند کرنے کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نامی نوجوانوں کی تحریک، جس نے انڈیا کے وزیرِ تعلیم کے استعفے میں اہم کردار ادا کیا، نے سڑکوں پر احتجاج کے ساتھ ساتھ انسٹاگرام کا بھی بھرپور استعمال کیا۔
وائرل ویڈیوز، میمز اور ریلز اس تحریک کی پہچان بن گئیں۔ ان کے ذریعے مزاحمتی گیتوں سے لے کر پولیس کی کارروائی تک سب کچھ دستاویزی شکل میں پیش کیا گیا، خصوصاً 20 جولائی کو جب مظاہرین پارلیمنٹ کی طرف مارچ کر رہے تھے۔
دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس دن 60 مظاہرین اور 118 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، تاہم سی جے پی کا کہنا ہے کہ زخمی مظاہرین کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ تھی۔
ان سوشل میڈیا پوسٹس نے لاکھوں لوگوں تک رسائی حاصل کی اور عام سٹوڈنٹس کو تحریک کے نمایاں چہروں میں تبدیل کر دیا۔
احتجاج ختم ہونے کے بعد پولیس نے بعض مظاہرین کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے۔
تاہم بہت سی خواتین کا کہنا ہے کہ ان کا آن لائن کی دنیا میں بھی محاسبہ ہوا۔ ان کے مطابق انھیں ریپ کی دھمکیاں ملیں اور ان کی تصاویر میں رد و بدل کر کے انھیں شیئر کیا گيا۔
کچھ معاملات تو ٹی وی مباحثوں، پولیس شکایات اور سیاسی بیانات تک جا پہنچے، جبکہ بہت سے واقعات اس وقت حاشیے میں چلے گئے جب نوجوان خواتین نے اپنی پوسٹس حذف کر دیں، اکاؤنٹس پرائیوٹ کر دیے اور نامعلوم نمبروں سے آنے والی کالز کا جواب دینا چھوڑ دیا۔
بی بی سی نے ایسی ہی چار خواتین سے گفتگو کی اور ان کی جانب سے فراہم کردہ پیغامات اور پوسٹس کا جائزہ لیا۔ ان کی شناخت کے تحفظ کی خاطر یہاں ان کے نام ظاہر نہیں کیے جا رہے ہیں۔

کونٹینٹ کری ایٹر
میری عمر بیس کی دہائی کے درمیانی حصے میں آتی ہے۔ میں شروع سے ہی احتجاج کے بارے میں پوسٹس کر رہی تھی، لیکن 20 جولائی وہ پہلا موقع تھا جب میں کسی احتجاج میں شریک ہوئی۔
اس دن جب پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج ہوئی اور پروٹیسٹ کے مقام کے قریب انٹرنیٹ بند ہوگئے تو پھر میں گھر لوٹ آئی اور انسٹاگرام پر عینی شاہدین کے بیانات شیئر کرنے لگی۔
میں نے کھانے تقسیم کرنے اور دوسرے رضاکارانہ امدادی کاموں میں بھی مدد کی۔ مجھے لگتا تھا کہ میں صرف مدد کر رہی ہوں اور اسے سیاسی سرگرمی نہیں سمجھتی تھی۔
لیکن میری پوسٹ پر نفرت انگیز ردِعمل تقریباً فوراً شروع ہو گیا۔
میں نے احتجاج کے اختتام کے بعد وزیرِ اعظم کے بیانات پر سوال اٹھائے، جس کے بعد مجھے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، مجھے جنسی طور پر شرمسار کیا گیا۔ (مودی نے بعد میں اپنے ایک پیغام میں ان سٹوڈنٹس کو معاف کرنے کی بات کہی اور سماج سے بھی اسی رویے کی اپیل کی کہ انھیں عدالتوں میں نہ گھسیٹا جائے۔)
مجھے یاد نہیں کہ کتنے پیغامات میں نے حذف کیے اور کتنے لوگوں کو بلاک کیا، لیکن تبصرے اب بھی آتے رہتے ہیں۔
ایک کونٹینٹ کری ایٹر یا انفلوئنسر ہونے کے ناطے مجھے پہلے ہی یہ احساس رہتا ہے کہ لوگ میری ہر بات پر نظر رکھتے ہیں، خاص طور پر سے مرد۔
جب میں نے کانٹینٹ بنانا شروع کیا تو میں اس آدمی کو بلاک کردیتی تھی جو مجھے بے چینی محسوس کراتا تھا۔ انسٹا کے الگورتھم کے مطالعے آہستہ آہستہ میری پوسٹس کو خواتین کو دکھایا جانے لگا۔ میرے خیال سے اس چیز نے مجھے اور مجھ جیسی دوسری خواتین کو بہت حد تک گالیوں سے بچایا۔
اس کے باوجود میرے ساتھ یہ ہوا۔
میری والدہ نے تو کافی عرصہ پہلے میری پوسٹس پر آنے والے تبصرے پڑھنا چھوڑ دیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کے بارے میں اجنبی لوگوں کی باتیں برداشت نہیں کر سکتیں۔ میں سمجھتی ہوں۔ کون سے والدین اس سے پریشان نہیں ہوں گے؟
انڈیا میں ایک عورت ہونے کے طور پر آپ خوف کے ساتھ بڑی ہوتی ہیں۔ آپ کو بتایا جاتا ہے کہ کہاں جانا ہے، کس کے ساتھ جانا ہے اور کس طرح محفوظ واپس آنا ہے۔ آپ کو بہت کم عمری میں ہی پتہ چل جاتا ہے کہ آپ کو مسلسل اپنے تحفظ کے بارے میں سوچتے رہنا ہے۔
جب آپ آن لائن کچھ کہہ سکتی ہیں تب بھی یہ خوف ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ آپ کا وہاں بھی پیچھا کرتا ہے۔
کالج سٹوڈنٹ
میں 20 سال کی ہوں اور یہ میرا پہلا احتجاج تھا۔ میں اس لیے گئی کیونکہ میرا خیال تھا کہ طلبہ ایک اہم مقصد کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔
میٹرو سٹیشن سے نکلنے سے پہلے میں نے اپنا فون ریلنگ کے ساتھ رکھا اور ایک مختصر 'فٹ چیک' ویڈیو بنائی جس میں میرا لباس نظر آ رہا تھا کہ میں نے کیا پہن رکھا ہے۔'
انھوں نے مذاقاً کہا کہ ’دوستوں میں پولیس سے مار کھانے جا رہی ہوں۔‘
میں عام طور پر ایسی ہلکے پھلکے انداز کی ویڈیوز بناتی ہوں۔
جب دوپہر کے وقت پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کے شیل داغے اور لاٹھی چارج کی تو میں ویڈیوز بناتی رہی۔ میں صرف وہی ریکارڈ کر رہی تھی جو میرے اردگرد ہو رہا تھا۔ مجھے گمان بھی نہیں تھا کہ میری ویڈیو میرے فالوورز کے باہر بھی جائے گی۔ میرا خیال غلط تھا۔
میری ایک ویڈیو قومی ٹی وی چینل پر دکھائی گئی۔ کچھ ہی دیر بعد سوشل میڈیا پر میری تصویر گردش کرنے لگی اور کہا گيا کہ پولیس مظاہرین کی شناخت کر رہی ہے۔ کسی نے یہ بھی جان لیا کہ میں کس کالج میں پڑھتی ہوں۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ لوگ صرف آن لائن تنقید نہیں کر رہے بلکہ مجھے تلاش کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔
میرے ان باکس میں نامعلوم افراد کے پیغامات آنے لگے۔ کئی لوگوں نے دھمکیاں دیں کہ وہ پولیس میں شکایت کریں گے۔ لوگ میرے نام کو جسم فروشوں کے ساتھ جوڑنے لگے، واضح جنسی تبصرے کیے، میرے جسم کا مذاق اڑایا اور مجھ کو مارنے کی دھمکیاں دیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ مجھے 'سبق سکھایا جائے گا' جبکہ کسی نے صرف اتنا کہا کہ 'تمہاری باری بھی آئے گی'۔
مجھے جس چیز نے سب سے زیادہ خوفزدہ کیا وہ خود بدسلوکی نہیں تھی بلکہ اس کے بعد پیش آنے والے واقعات تھے۔
رشتے داروں اور جاننے والوں نے میرے والدین کو فون کیے اور کہا کہ مجھے اپنی ویڈیوز حذف کر دینی چاہییں یا پھر نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انھیں اس قدر پریشان دیکھنا میرے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔ اسی لیے میں اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتی۔ اس کے بعد سے میں نے احتجاج کی اپنی ساری پوسٹوں کو ہٹا دیا یا پھر آرکائيو کر دیا۔
مجھے اپنے بارے میں کم اور اپنے والدین کے بارے میں زیادہ فکر ہے۔

طلبہ کارکن
میں ہمیشہ آن لائن اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہی ہوں۔ میں ایک سٹوڈنٹ ایکٹیوسٹ ہوں اور انتہائی منقسم انڈیا میں مسلم مذہبی اقلیت سے تعلق رکھتی ہوں۔ اس سے پہلے مجھے کبھی خوف محسوس نہیں ہوا۔
لیکن سی جے پی کے احتجاج کے بعد سب کچھ بدل گیا۔
اب میرا انسٹاگرام اکاؤنٹ پرائیوٹ ہے۔ میں نے اپنے زیادہ تر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو محدود کر دیا ہے کیونکہ بدسلوکی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ میں جب بھی اپنے فون کو دیکھتی ہوں میرے خلاف کوئی بیان یا پیغام یا پوسٹ ہوتی ہے۔
میں احتجاج میں اس لیے گئی کیونکہ میرا یقین تھا کہ یہ وقت کا تقاضا تھا۔ میں نے مظاہرے کے دوران کچھ طنزیہ ویڈیوز بنائیں۔ ان میں سے ایک میں وزیرِ اعظم پر طنز کیا گیا تھا جبکہ دوسری ویڈیوز میں نعرے اور گیت شامل تھے۔ وہ سیاسی اور غیرت دلانے والے ویڈیوز تھے جو میں اکثر بناتی ہوں۔
لیکن یہ ویڈیوز میرے جاننے والوں کے دائرے سے کہیں دور تک پھیل گئیں۔
کچھ سوشل میڈیا صفحات نے میری تصاویر میں ردوبدل کیا جبکہ دوسروں نے مجھے ملک مخالف قرار دیا۔ مجھے شرمندہ کرنے کے لیے میری ایک تصویر اس طرح تبدیل کی گئی جس سے یہ پتا چلے کہ میں کسی کو چوم رہی ہوں۔ ایک میں مجھے ملک مخالف اور دہشت گرد قرار دیا
خواجہ سرا کہہ کر میرا مذاق اڑایا گيا۔ مجھے مظاہرہ کرنے والی کرائے کی خاتون بھی کہا گیا۔
میرے والد، جو ایک صحافی ہیں، نے جب یہ تبصرے پڑھتے تو پریشان ہو گئے۔ ان کا خیال تھا کہ میرے مسلم نام کے بعد پھر کوئی اور چیز اہم نہیں رہ جاتی۔
میرے والدین نے دوسرے مسلم کارکنوں کی حراست اور ان کے خلاف کارروائیاں دیکھی ہیں اور انھیں خوف ہے کہ میرے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔
ہم مسلسل خوف کی فضا میں زندگی گزارتے ہیں۔
لیکن میں اپنی آواز بلند کرنا بند نہیں کرنے والی۔ مجھے اب بھی یقین ہے کہ احتجاج میں شرکت کا فیصلہ درست تھا، البتہ اب مجھے اس کی قیمت کا بہتر اندازہ ہو گیا ہے۔

طالب علم
میں مغربی بنگال کی ایک سٹوڈنٹ ہوں، جہاں کالج کی زندگی میں سیاسی بحث و مباحثے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ میں برسوں تک کیمپس کے ان مباحثوں میں شامل ہوتی رہی تھی اس لیے میں نے احتجاج کے بارے میں پوسٹ کرنے سے پہلے بہت غور خوض نہیں کیا۔
اگرچہ میں نے 20 جولائی کو کولکتہ کے احتجاج میں پہلی بار شرکت کی، لیکن اس سے پہلے میں آن لائن امدادی سامان اور دیگر ضروریات کی فراہمی میں تعاون کر رہی تھی۔
میں اور میری ایک دوست نے انسٹاگرام پر چندہ جمع کرنے کی مہم بھی شروع کی۔
24 جولائی کو جب پولیس نے بعض مظاہرین کو حراست میں لینا شروع کیا تو ہم نے اس بارے میں آن لائن بات کرنا شروع کی۔
اس کے بعد ہی شدید منفی ردِعمل اور نفرت بھرے پیغامات کا آغاز ہوا۔
لوگوں نے میرے چندہ جمع کرنے والے پیغام پر سخت تبصرے کرنا شروع کر دیے۔ یہ سلسلہ احتجاج ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہا، اور آخرکار میں نے وہ پوسٹ حذف کر دی۔
اس کے بعد مجھے اپنی شناخت افشا ہونے کا خوف محسوس ہونے لگا۔ میں نے سوشل میڈیا پر اپنا نام تبدیل کر لیا، اکاؤنٹ نجی کر دیا اور نامعلوم افراد کے پیغامات بند کر دیے۔
میرے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ میرے مرد دوستوں کو ایسی گالیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ انھوں نے بھی ملتے جلتے خیالات کا اظہار کیا تھا، لیکن انھیں میرے جیسی جنسی تنقید اور بدتمیزیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
خواتین کے معاملے میں ردِعمل بہت جلد ان کی صنف کے گرد گھومنے لگتا ہے۔ اسی وجہ سے میں سوچنے پر مجبور ہوں کہ آخر خواتین آن لائن وہی رائے کیوں نہیں دے سکتیں جو مرد دیتے ہیں۔