وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کا مقصد کسی قسم کی جارحیت نہیں بلکہ یہ تینوں ممالک کے درمیان خطے میں امن، سلامتی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم نے وضاحت کی کہ مکہ معاہدہ دراصل پاکستان اور سعودی عرب کے مابین قائم دفاعی تعاون کی ہی توسیع ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برس بھی ایک دفاعی معاہدہ طے پایا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سہ ملکی دفاعی معاہدہ پہلے سے موجود تعاون کا تسلسل ہے، جبکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بھی دہائیوں پر محیط مضبوط دفاعی تعلقات قائم ہیں۔
وزیراعظم نے حرمین شریفین کے تحفظ کی ذمہ داری کو پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کے لیے ایک انتہائی اہم اور مقدس فریضہ قرار دیا۔ ذرائع کے مطابق کابینہ نے اس سہہ ملکی دفاعی معاہدے کو ایک تاریخی اقدام قرار دیا ہے۔
سیاسی امور پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے پاکستان مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے ووٹ دیا ہے، جو قائد نواز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا ثبوت ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر نے وہاں کے حالات کو دباؤ میں لانے اور خراب کرنے کی کوشش کی، حالانکہ تمام مسائل کا حل ہمیشہ پرامن بات چیت ہی سے ممکن ہوتا ہے۔
دہشت گردی کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس ناسور کے خلاف جنگ میں ہماری مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں کے بہادر سپوتوں نے بے مثال اور عظیم قربانیاں دی ہیں۔