گاڑی میں بیٹھنے کے بعد میر رضا بہت خوش تھے اور انہوں نے گانے لگا رکھے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ لوکیشن کو چھوڑیں، میں جو راستہ بتاؤں آپ نے اسی راستے پر چلنا ہے۔ ہم طارق روڈ، بہادرآباد، اسٹیڈیم روڈ اور ڈالمیا سے ہوتے ہوئے گلستان جوہر پہنچے جہاں دی گئی لوکیشن پر میں نے انہیں اتار دیا۔ میری رائیڈ کا مکمل ریکارڈ کمپنی اور موبائل ایپ میں بھی موجود ہے۔
نوجوان میر رضا کو آخری بار گھر سے گلستان جوہر لے جانے والا آن لائن ٹیکسی ڈرائیور احسان اللہ سامنے آگیا ہے۔ ڈرائیور نے بتایا کہ میر رضا سفر کے دوران خوش دکھائی دے رہے تھے اور خود اسے راستہ بتاتے ہوئے گلستان جوہر تک لے گئے۔
احسان اللہ کے مطابق میر رضا کو اسی لوکیشن پر اتارا گیا جو ایپ میں درج تھی جبکہ اس سفر کا ریکارڈ بھی کمپنی کے پاس موجود ہے۔
دوسری جانب میر رضا قتل کیس کی کیمیکل ایگزامین اور ڈی این اے رپورٹس کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق میر رضا کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور شناخت مٹانے کی کوشش کی گئی، جبکہ ان کے ہاتھوں کے فنگر پرنٹس بھی موجود نہیں تھے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ میر رضا کی شرٹ کے اگلے اور پچھلے حصے پر گولیوں کے سوراخ موجود تھے جبکہ کپڑے سے تیزاب کے ذرات بھی ملے ہیں، جس سے واقعے کی سنگینی مزید واضح ہوتی ہے۔