میری بیٹی کے ساتھ یہ ظلم کرنے والا 17 سال کا لڑکا خود جرم کا اعتراف کرچکا ہے، لیکن اب اسے بچہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مجھے کہا جا رہا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ آنے میں دو ماہ لگیں گے جبکہ اسے ذہنی طور پر بیمار قرار دینے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ میں اپنی بیٹی کے لیے انصاف چاہتی ہوں۔
18 ماہ کی بچی ایزل کے مبینہ ریپ اور قتل کے واقعے نے ملک بھر میں والدین کو صدمے سے دوچار کردیا ہے۔ بچی کو اس کے 17 سالہ رشتہ دار نے مبینہ طور پر اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اسے اسنیکس دلانے کے لیے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ بچی کی والدہ کے مطابق ملزم نے مبینہ جرم کا اعتراف بھی کیا ہے۔
ایزل کی پرورش اس کی والدہ اکیلے کر رہی تھیں کیونکہ بچی کے والد اس کی پیدائش کے صرف 16 روز بعد انہیں چھوڑ گئے تھے۔ واقعے کے بعد بچی کی والدہ انصاف کی منتظر ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ملزم کے خاندان کی جانب سے اسے کم عمر قرار دینے اور ذہنی طور پر بیمار ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بچی کی والدہ نے ڈی این اے رپورٹ میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایک ایسے شخص کو ذہنی مریض قرار دینے کی کوشش کیسے کی جاسکتی ہے جس پر اتنے سنگین جرم کا الزام ہے۔