وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ راولپنڈی کے مال روڈ پر پیش آنے والا افسوسناک واقعہ اس بات کا اشارہ ہے کہ 27 ستمبر کو بھی ایسا ہی کھیل کھیلا جائے گا، اور اگر آئندہ ایسا کوئی حملہ ہوا تو حملہ آور کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہوسکتی کہ واقعے میں ملوث ورکر سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کو بارہا کہا گیا تھا کہ نفرت، انتشار اور تشدد کی سیاست سے گریز کریں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں انتشار نہ بھریں۔ طلال چوہدری نے سوال اٹھایا کہ اگر حملہ آور کا دماغی توازن ٹھیک نہیں تھا تو اس نے اپنے گھر والوں یا پارٹی رہنماؤں پر حملہ کیوں نہیں کیا؟ اس شخص نے پارٹی کا جھنڈا ساتھ رکھا ہوا تھا اور بغیر کسی ڈر کے سیدھے فائر کیے، جس سے سیکیورٹی فورس کا جوان زخمی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جس سپاہی پر حملہ کیا گیا، اس کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں تھا۔
لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ 9 مئی کا سانحہ اور گزشتہ روز کا واقعہ اسی نفرت اور انتشار کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ اس تربیت میں بیرونِ ملک بیٹھے وہ اوپینین میکرز بھی برابر کے ذمہ دار ہیں جن کا مقصد صرف ویوز حاصل کرنا اور پیسے کمانا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا توڑ پھوڑ کرنا اور آگ لگانا سیاست ہے؟ ایک صوبے میں 17 سال سے حکومت کرنے والوں نے وہاں کے عوام کو کچھ نہیں دیا۔ 27 ستمبر کو بھی ایسا ہی کھیل کھیلنے کی کوشش کی جائے گی کیونکہ جب کارکنوں کے ذہنوں میں نفرت بھری جائے گی تو وہ ایسا ہی اقدام کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیانات اور تقریریں مسلسل نفرت پھیلانے کا سبب بنتی رہی ہیں، اور حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ شہدا کے مجسموں کو بھی نہیں چھوڑا گیا جبکہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پوسٹس شہدا کی تضحیک کرتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسمبلیاں توڑنے، استعفے دینے، 9 مئی اور 26 نومبر جیسے اقدامات کے باعث پی ٹی آئی روز بروز مائنس ہوتی جا رہی ہے۔ راولپنڈی واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں جن کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو کسی صورت سیاسی عدم استحکام کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا اور ملک دشمن یا پرتشدد عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔