لاہور اور گرد و نواح میں گیسٹرو اور ہیضے کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے، مختلف سرکاری مراکز صحت اور اسپتالوں میں روزانہ بڑی تعداد میں مریض علاج کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
سی ای او ہیلتھ لاہور ڈاکٹر آصف نیازی کے مطابق بنیادی مراکز صحت، ڈسپنسریز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ یونٹس میں گیسٹرو کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف جولائی کے دوران تقریباً 7 ہزار افراد گیسٹرو سے متاثر ہوئے، جبکہ بنیادی مراکز صحت میں روزانہ اوسطاً 271 مریض گیسٹرو کی شکایت کے ساتھ آتے ہیں۔
ڈاکٹر آصف نیازی کے مطابق گیسٹرو سے متاثر ہونے والے افراد میں زیادہ تعداد 5 سے 10 سال عمر کے بچوں کی ہے۔
دوسری جانب سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ٹیچنگ ہسپتالوں میں بھی گیسٹرو اور ہیضے کے مریض لائے جا رہے ہیں۔ گنگا رام اسپتال میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 150 سے 200 مریض گیسٹرو کی شکایات کے ساتھ پہنچے۔
طبی ماہرین کے مطابق پیچش اور شدید اسہال ہیضے کی نمایاں علامات میں شامل ہیں، جبکہ میو اسپتال کی ایمرجنسی اور آؤٹ ڈور میں بھی ہیضے کے مریض رپورٹ ہو رہے ہیں۔
سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر کاظم کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی، غیر معیاری کھانے اور سڑک کنارے فروخت ہونے والی اشیائے خورونوش کے استعمال سے ہیضے اور ڈائریا کے کیسز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق بازاروں میں استعمال ہونے والی غیر معیاری برف بھی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے۔