گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کی وادی چپورسن میں آج صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے بعد علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں رمنجی کے قریب لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
چپورسن گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل زلزلوں کی زد میں ہے، جس کے باعث علاقے کے مکینوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ متعدد خاندان اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے وادی سے نقل مکانی کرکے دیگر علاقوں میں منتقل ہوچکے ہیں۔
چپورسن گلگت بلتستان کی آخری وادیوں میں شمار ہوتی ہے اور پاک افغان سرحد پر واقع واخان کوریڈور سے متصل ہے۔ رواں سال 19 جنوری کو بھی علاقے میں شدید زلزلہ آیا تھا، جس کے باعث لوگوں نے گھروں سے باہر نکل کر اپنی جانیں بچائیں، متعدد مکانات منہدم ہوئے جبکہ وادی تک پہنچنے والی واحد کچی سڑک بھی شدید لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہوگئی تھی۔
محکمہ موسمیات اور جیالوجیکل سروے آف پاکستان کے مطابق چپورسن میں آنے والے زلزلے ایک فالٹ لائن کی سرگرمی کا حصہ ہیں۔ حکام کی جانب سے ان زلزلوں کے جھٹکے پورے گلگت بلتستان میں محسوس کیے جانے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔
علاقے میں گزشتہ مہینوں کے دوران آنے والے زلزلوں کی شدت 4.5 سے 5.4 تک ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق فالٹ لائن کے ساتھ ساتھ گلیشیئرز کی زیرِ زمین حرکات بھی علاقے میں زلزلہ خیزی کی ایک ممکنہ وجہ قرار دی جا رہی ہیں۔
مسلسل زلزلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث چپورسن کے رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ کئی خاندان آج بھی اپنے گھروں سے دور عارضی طور پر دیگر علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔