عمران خان کا اکبر ایس بابر کو مبینہ پیغام اور 27 ستمبر کا لانگ مارچ: ملکی سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی

image

تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی جانب سے پارٹی کے سابق بانی رہنما اکبر ایس بابر کو مبینہ طور پر بھیجے گئے پیغام اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے 27 ستمبر کو ممکنہ لانگ مارچ سے متعلق بیانات نے ملکی سیاسی منظرنامے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ذرائع کے مطابق عمران خان نے اڈیالہ جیل سے اکبر ایس بابر کو اہم پیغام بھجوایا ہے، جس میں مبینہ طور پر پارٹی کے ابتدائی دور کے ساتھیوں، ناراض رہنماؤں اور کارکنوں کو دوبارہ متحد کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ رہائی کے بعد وہ سب سے پہلے اکبر ایس بابر کے گھر جائیں گے۔

عمران خان اور اکبر ایس بابر کے درمیان گزشتہ کئی برسوں سے اختلافات چلے آ رہے ہیں، جبکہ اکبر ایس بابر پارٹی قیادت کے خلاف قانونی معاملات میں بھی سرگرم رہے ہیں۔ ایسے میں دونوں کے درمیان دوبارہ رابطے کی مبینہ خبر کو سیاسی حلقوں میں غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ پیغام درست ثابت ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں تحریک انصاف کے اندر پرانے ساتھیوں اور ناراض رہنماؤں کو دوبارہ ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش سامنے آ سکتی ہے۔ تاہم بعض حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ اکبر ایس بابر عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ممکنہ مفاہمت کے لیے بیک چینل رابطے کا کردار ادا کرسکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی آزادانہ اور قابلِ اعتماد تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے 27 ستمبر کو ممکنہ لانگ مارچ سے متعلق بیانات بھی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مارچ کا آخری پڑاؤ ڈی چوک ہوگا اور اس مرتبہ شرکا واپس نہیں جائیں گے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ مارچ کے دوران اگر ایک رہنما کے ہاتھ سے پارٹی کا جھنڈا گرا تو دوسرا رہنما آگے بڑھ کر اسے تھام لے گا۔ ان کے مطابق مارچ میں شرکا کی تعداد اتنی زیادہ ہوگی کہ حکومت کے لیے ان پر فائرنگ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کے مبینہ مقصد میں بھی تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ ابتدائی طور پر کہا جا رہا تھا کہ مارچ کا مقصد عمران خان تک رسائی حاصل کرنا اور پارٹی رہنماؤں و کارکنوں کو ان سے ملاقات کا موقع فراہم کرنا ہے، تاہم اب وزیراعلیٰ کے بیانات میں عمران خان کی رہائی کو مارچ کا مرکزی مقصد قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی حلقوں کے مطابق مقاصد میں یہ تبدیلی تحریک انصاف کی آئندہ سیاسی حکمت عملی میں ممکنہ اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایک طرف پارٹی کے پرانے ساتھیوں کو دوبارہ متحد کرنے کی مبینہ کوششیں اور دوسری جانب عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک کی تیاری، دونوں معاملات آنے والے دنوں میں ملکی سیاست پر نمایاں اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US