مصطفیٰ کمال نے کہا، ’’رانا ثناء اللہ کو خبر بھی نہیں ہوگی اور آئین میں صوبوں کی تشکیل سے متعلق ترمیم سامنے آ جائے گی۔ جو سیاستدان نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت کر رہے ہیں، انہیں وہاں جا کر بات کرنی چاہیے جہاں سے یہ بحث شروع ہوئی ہے۔ جو لوگ نظام میں یہ اصلاحات لانے والے ہیں، وہ نئے انتظامی یونٹس کا کام بھی کروا سکتے ہیں۔‘‘
وفاقی وزیر اور ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال نے ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی ضرورت اب فیصلہ سازوں کے سامنے واضح ہو چکی ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک کو مؤثر انداز میں چلانے اور ترقی کی راہ پر آگے بڑھانے کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر بنتا جا رہا ہے۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق اس معاملے میں کراچی کو خاص اہمیت حاصل ہے اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت کی فہرست میں یہ شہر سب سے نمایاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اس تجویز پر اعتراض کر رہے ہیں، انہیں اس بحث کے اصل مرکز میں جا کر اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے۔
انہوں نے نئے انتظامی نظام کے لیے ایک عملی تجویز بھی پیش کی۔ مصطفیٰ کمال کے مطابق ملک کے موجودہ 32 ڈویژنز کو مستقل انتظامی یونٹس میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ان کی حدود پہلے ہی طے شدہ ہیں۔ ان کے بقول اس نظام میں ڈویژن کی سطح پر موجود انتظامی عہدوں کو زیادہ اختیارات دے کر کام چلایا جاسکتا ہے اور اس کے لیے حکومت یا قومی خزانے پر کوئی بڑا اضافی مالی بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔