فراڈ کے الزامات کی تحقیقات کے بعد بنگلادیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی بیٹی صائمہ واجد نے عالمی ادارہ صحت کی جنوب مشرقی ایشیا کی سربراہی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
صائمہ واجد نے یہ استعفیٰ اقوام متحدہ کی ایجنسی اور بنگلادیشی حکام کی جانب سے تحقیقات شروع ہونے کے بعد عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کو پیش کیا۔ عالمی ادارہ صحت کی ایک کمیٹی نے ان کے استعفے سے ایک روز قبل ہی انہیں برطرف کرنے کی سفارش کی تھی۔
صائمہ واجد نے 2024 میں پانچ سالہ مدت کے لیے یہ عہدہ سنبھالا تھا، تاہم الزامات کے بعد انہیں بغیر تنخواہ کے رخصت پر بھیج دیا گیا تھا۔ اس سے قبل بنگلادیش کی عبوری حکومت کے انسداد بدعنوانی کمیشن نے ان پر دھوکہ دہی اور جعلسازی کے الزامات عائد کیے تھے۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے صائمہ واجد پر چین کے سفر کے حوالے سے مالیاتی فراڈ، تعلیمی اسناد کے بارے میں غلط بیانی اور بنگلادیش میں غیر قانونی طور پر زمین حاصل کرنے جیسے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں، تاہم انہوں نے ان تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے۔
اپنے استعفے میں صائمہ واجد نے موقف اختیار کیا کہ مذکورہ زمین انہوں نے عالمی ادارہ صحت میں شمولیت سے قبل حاصل کی تھی اور وہ ملک کے بانی شیخ مجیب الرحمان کے خاندان کو مراعات فراہم کرنے والے قانون کے تحت اس کی قانونی حقدار تھیں۔