امریکی اور برطانوی فوجیوں کا مکمل انخلا: عراق میں واشنگٹن کا اثر و رسوخ برقرار رہے گا یا ایران مزید مضبوط ہو گا؟

عراق کے وزیرِ اعظم علی الزیدی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اتحادی مشن کا اختتام ’عراق کے اس مرحلے میں داخل ہونے کی علامت ہے، جہاں وہ اپنی سلامتی اور استحکام کی مکمل ذمہ داری خود سنبھالتا ہے۔‘
Composite image showing former Iraqi President Saddam Hussein on the left, alongside four US presidents, Donald Trump, Joe Biden, Barack Obama and George W. Bush, above US troops walking near military aircraft, against the backdrop of the Iraqi flag
Getty Images
امریکہ عراق سے اپنے باقی ماندہ فوجیوں کا انخلا مکمل کرنے جا رہا ہے، جس کے ساتھ اُس فوجی موجودگی کا اختتام ہو جائے گا جو 2003 کے حملے کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔

عراق میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک موجود رہنے کے بعد آخری برطانوی اور امریکی فوجی دستے بھی بدھ کو ملک چھوڑ چکے ہیں۔

برطانیہ کے باقی ماندہ فوجی اہلکاروں، جن کی تعداد تقریباً 100 تھی، کا شمالی کردستان کے علاقے اربیل سے انخلا گذشتہ ہفتوں کے دوران امریکی افواج کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت کیا گیا۔ امریکی افواج نے بھی بدھ کے روز عراق سے رخصت اختیار کی۔

یہ پیش رفت امریکہ اور عراقی حکومت کے درمیان دو سال قبل طے پانے والے اس معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے جس کے مطابق اس ماہ کے اختتام تک تمام غیر ملکی افواج کا انخلا مکمل کیا جانا تھا۔

برطانوی اور امریکی افواج 2014 سے عراق میں موجود تھیں اور شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے قائم بین الاقوامی اتحاد کا حصہ تھیں۔ ان کے انخلا کے ساتھ ہی ’آپریشن انہیرنٹ ریزولو‘ کے نام سے معروف یہ مشن بھی اختتام پذیر ہو گیا ہے۔

عراق کے وزیرِ اعظم علی الزیدی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اتحادی مشن کا اختتام ’عراق کے اس مرحلے میں داخل ہونے کی علامت ہے، جہاں وہ اپنی سلامتی اور استحکام کی مکمل ذمہ داری خود سنبھالتا ہے۔‘

افواج کے انخلا کے موقع پر عراق ’یومِ خودمختاری‘ کی چار تعطیلات قومی سطح پر منائے گا۔

اس سال کے آغاز میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے بعد سے اربیل کے فضائی اڈے پر تعینات باقی ماندہ امریکی اور برطانوی افواج کو ملیشیاؤں کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

بغداد میں تعینات نیٹو کے سینکڑوں فوجی اہلکار مارچ میں ملک چھوڑ گئے تھے، جب کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

بی بی سی کی ایک ٹیم نے اس سال اپریل میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نازک جنگ بندی کے دوران اربیل میں اتحادی افواج کے اڈے کا دورہ کیا تھا۔

قریب ہی ڈرونز لانچ کیے جا رہے تھے، جس کے باعث انہیں رائل ایئر فورس کے ایک ٹرانسپورٹ طیارے میں اڈے کے اوپر چکر لگاتے رہنا پڑا۔

Two US soldiers in combat gear stand near a barrier painted in the colours of the Iraqi flag, with one soldier in the foreground and another holding a rifle in the background
AFP
2024 میں واشنگٹن اور بغداد نے آئی ایس کے خلاف امریکی قیادت میں قائم اتحادی مشن ’آپریشن ان ہیرنٹ ریزولو‘ کے خاتمے پر اتفاق کیا۔

ایران کے خلاف امریکی بمباری کی مہم کے عروج کے دوران اتحادی افواج کا یہ اڈہ روزانہ تقریباً 28ڈرونز اور میزائل حملوں کی زد میں آ رہا تھا۔

وہاں تعینات آخری برطانوی فوجی اہلکاروں میں شامل رائل ایئر فورس رجمنٹ کے گنرز نے جنگ کے پہلے چھ ہفتوں کے دوران 100 سے زیادہ ڈرونز مار گرائے تھے۔ ان حملہ آور ڈرونز میں سے بہت سے عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی جانب سے لانچ کیے جا رہے تھے۔

بدھ کے روز مشن کے اختتام کا اشارہ دیتے ہوئے برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے ان برطانوی اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنھوں نے نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف مشن میں کردار ادا کیا تھا۔

وزارتِ دفاع کے مطابق ان اہلکاروں نے عراقی سکیورٹی فورسز کے 111,000 سے زائد ارکان کو ’قیمتی معاونت، تربیت اور مدد‘ فراہم کی، جن میں نیم خودمختار کردستان ریجن کی 21,000 سے زیادہ پیشمرگہ فورسز بھی شامل ہیں۔

وزارت دفاع نے یہ بھی کہا کہ رائل ایئر فورس نے عراق میںہزاروں فضائی کارروائیاں انجام دیں اور نام نہاد دولت اسلامیہ کے 2,300 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا۔ توقع ہے کہ رائل ایئر فورس پڑوسی ملک شام کے اوپر بھی اپنی پروازیں جاری رکھے گی تاکہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے باقی ماندہ عناصر کو دوبارہ قدم جمانے سے روکا جا سکے۔

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے کہا کہ امریکہ اپنے عراقی شراکت داروں کو ’مخصوص تربیت اور انٹیلی جنس معاونت‘ فراہم کرتا رہے گا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ اتحادی افواج کی مشترکہ ٹاسک فورس بدستور فعال ہے اور اب اس کا مرکز اردن میں قائم ہے۔

امریکی افواج شام میں بھی نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی، جہاں اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق اس گروہ کے پاس اب بھی 3,000 تک جنگجو موجود ہیں۔

کیا ہو رہا ہے اور کیوں؟

سرکاری طور پر یہ انخلا واشنگٹن اور بغداد کے درمیان 2024 میں طے پانے والے اُس معاہدے کے تحت ہو رہا ہے جس کے مطابق نام نہاد دولت اسلامیہ (جسے امریکہ میں داعش بھی کہا جاتا ہے) کے خلاف امریکی قیادت میں قائم اتحادی مشن ’آپریشن ان ہیرنٹ ریزولو‘ ختم کیا جا رہا ہے۔

2007 میں عراق جنگ کے عروج پر ملک میں 170,000 سے زیادہ امریکی فوجی تعینات تھے۔

امریکی مرکزی کمان کے مطابق دسمبر 2023 تک، جب انخلا کا معاہدہ طے پایا، یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 2400 رہ گئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کے بعد امریکی افواج نے اپنی موجودگی مزید کم کر دی اور اب صرف ایک چھوٹا دستہ خطۂ کردستان میں باقی ہے۔

واشنگٹن میں اٹلانٹک کونسل کے عراق انیشی ایٹو سے وابستہ غیر مقیم سینئر فیلو صفوان الامین کہتے ہیں: ’یہ انخلا سابق عراقی حکومت کے دور میں طے پایا تھا کیونکہ عراق میں داعش کو شکست دینے کے مشن نے اپنا مقصد حاصل کر لیا تھا۔‘

یہ اقدام عراق کے اندر طویل عرصے سے موجود سیاسی دباؤ کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

2016 سے 2019 تک عراق میں امریکی سفیر رہنے والے ڈگلس سلیمن کہتے ہیں کہ لگاتار عراقی حکومتوں کو امریکی فوجی موجودگی ختم کرنے کے مطالبات کا سامنا رہا ہے، کیونکہ بہت سے لوگ اسے عراقی خودمختاری میں مداخلت سمجھتے ہیں۔

سلیمن، جو اب واشنگٹن میں عرب خلیجی ریاستوں کے انسٹی ٹیوٹ کے صدر ہیں، نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ایران نواز دھڑوں اور زیادہ تر شیعہ برادری کے بعض حصوں کے دباؤ کے تحت چند عراقی حکومتیں یہ یقینی بنانے کے لیے دباؤ ڈالتی رہی ہیں کہ یہ افواج ملک چھوڑ دیں۔‘

امریکی افواج نے صدر باراک اوباما کے دور میں 2011 میں عراق چھوڑا تھا، لیکن تین سال بعد بغداد کی درخواست پر واپس آئیں جب آئی ایس نے ملک کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس کے بعد سے ان کا کردار جنگی کارروائیوں سے بدل کر تربیت، مشاورت اور انٹیلیجنس کے تبادلے تک محدود ہو گیا۔

Shadow of an armed fighter cast on a wall painted with an Islamic State (IS) flag
AFP via Getty Images
امریکی فوجی 2011 میں عراق سے نکل گئے تھے اور 2014 میں آئی ایس کے عروج کے بعد بغداد کی درخواست پر واپس آئے

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس انخلا کا وقت باضابطہ طور پر داعش مخالف مشن کے خاتمے سے زیادہ سکیورٹی خدشات سے جڑا ہوا ہے۔

برطانیہ کے تھنک ٹینک رُوسی کے سینئر ایسوسی ایٹ فیلو ایچ اے ہیلیئر کہتے ہیں: ’یہ داعش نہیں بلکہ خطرے کا معاملہ ہے، یہ جواز تو برسوں پہلے ختم ہو چکا تھا۔‘

ہیلیئر شمالی عراق میں امریکی تنصیبات پر حالیہ حملوں اور ایران سے متعلق علاقائی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ واشنگٹن اپنے باقی ماندہ اہلکاروں کو بڑھتے ہوئے خطرات کی زد میں سمجھنے لگا تھا۔

صفوان الامین بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امریکی اور عراقی حکام نے پہلے اتحادی مشن کے خاتمے کے بعد بھی ایک محدود امریکی دستہ برقرار رکھنے پر بات کی تھی۔

وہ کہتے ہیں: ’فوجیوں کی کم تعداد اور طاقت کے محدود استعمال کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے ایران جنگ نے ان کی موجودگی کو اثاثے کے بجائے ایک کمزوری کے طور پر نمایاں کر دیا۔‘

عراق میں امریکی میراث کیا ہے؟

Former US President George W. Bush sits behind a desk in the Oval Office during a televised address, with US flags, large windows and television lighting equipment visible in the background.
Universal History Archive/Universal Images Group via Getty Images
19 مارچ 2003 کو ایک ٹیلی وژن خطاب میں صدر جارج ڈبلیو بش نے ’آپریشن عراقی فریڈم‘ کے آغاز کا اعلان کیا، جس کے ساتھ عراق پر امریکی قیادت میں حملہ شروع ہوا۔

حملے کے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد بھی عراق میں امریکی فوجی مداخلت کی میراث کے بارے میں آرا میں گہرا اختلاف پایا جاتا ہے۔

صفوان الامین اسے ’ملی جلی صورتِ حال‘ قرار دیتے ہیں۔

ان کے مطابق: ’امریکی حملہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا اور نہ ہی رجیم کی تبدیلی عراقی عوام کے ایک مستحکم اور خوشحال ملک کے خواب پورے کر سکی۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اس سے خطہ غیر مستحکم ہوا اور ایران کو اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع ملا۔

سلیمن بھی مانتے ہیں کہ تبدیلی کا عمل مشکل رہا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ برسوں کے دوران بہت سے عراقیوں نے انھیں بتایا کہ وہ صدام حسین کے خاتمے کے بعد آنے والی سیاسی تبدیلی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ان کے مطابق عراق میں نمائندہ جمہوریت کے تصور نے جڑ پکڑ لی ہے، اگرچہ ایسی آبادی میں جمہوری روایات کو مضبوط ہونے میں وقت لگے گا جسے اس کا پہلے بہت کم تجربہ تھا۔

واشنگٹن کی امریکن یونیورسٹی میں گلوبل کردش انیشی ایٹو فار پیس کے ڈائریکٹر یریوان سعید بھی اس حوالے سے مثبت رائے رکھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’سابق حکومت کا خاتمہ واقعی بڑی بات تھی۔‘

ان کے مطابق ناقدین اُس جبر کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس کا خاتمہ ہوا۔

اگرچہ بدعنوانی اب بھی موجود ہے، لیکن ان کے خیال میں 2003 سے پہلے کے مقابلے میں عراق میں سیاسی آزادی زیادہ ہے، خصوصاً عراقی کردستان میں۔

ہیلیئر اس پورے سوال کو جمہوریت کے تناظر میں دیکھنے کو ہی مسترد کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’لوگوں کو یہ سوال پوچھنا چھوڑ دینا چاہیے کہ کیا امریکہ نے عراق میں جمہوریت قائم کی؟ نہیں، اور یہ معاملہ طے ہو چکا ہے۔‘

ان کے نزدیک زیادہ اہم میراث علاقائی ہے: ’صدام کو ہٹانے کے نتیجے میں بالآخر ایرانی نیٹ ورکس ریاست کے اندر سرایت کر گئے اور اُس توازن کی جگہ لینے لگے جسے واشنگٹن نے ختم کیا تھا۔‘

تاہم چاروں ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ عراق اب بھی اُس مستحکم جمہوریت سے بہت دور ہے جس کا تصور امریکی پالیسی سازوں نے 2003 میں کیا تھا۔

ان کے مطابق بدعنوانی وسیع پیمانے پر موجود ہے اور مسلح گروہ اب بھی ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ طاقت رکھتے ہیں، خصوصاً پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) میں شامل سخت گیر دھڑے، جنھیں بغداد مکمل طور پر ریاستی کنٹرول میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

آگے کیا ہو گا؟

Former Iraqi President Saddam Hussein attends an official event wearing an olive-green military uniform, with several attendees visible in the background
Gamma-Rapho via Getty Images
عراق کے سابق صدر صدام حسین، جو 11 نومبر 1987 کو لی گئی ایک تصویر میں نظر آ رہے ہیں، 2003 میں امریکی قیادت میں ہونے والے حملے کے بعد اقتدار سے محروم ہوئے، ایک عراقی عدالت میں مقدمے کا سامنا کیا اور سزائے موت سنائی گئی

صفوان الامین انخلا کو عراق میں امریکی اثر و رسوخ کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھتے۔

وہ کہتے ہیں: ’امریکہ کے پاس اب بھی کافی اثر و رسوخ ہے کیونکہ عراق اپنی تیل کی فروخت کے لیے امریکی ڈالر پر انحصار کرتا ہے۔ عراق ہتھیاروں کی خریداری کے لیے بھی امریکہ پر انحصار کرتا ہے اور اپنے علاقائی پڑوسیوں سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لیے امریکی سفارتی حمایت کا محتاج ہے۔‘

سعید کے مطابق اس اثر و رسوخ کا ایک حصہ ملک میں واشنگٹن کی سفارتی موجودگی سے جڑا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’بغداد میں دنیا کا سب سے بڑا امریکی سفارت خانہ موجود ہے۔ اربیل میں دنیا کا سب سے بڑا امریکی قونصل خانہ موجود ہے۔‘

وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ فوجی انخلا کے بعد بھی ان دونوں تنصیبات کو مسلسل تحفظ درکار ہو گا۔

سلیمن کے مطابق امریکہ اور عراق کے درمیان ’بہت گہرا فوجی تعلق‘ برقرار رہے گا، جس میں عراقی فوج، انسدادِ دہشت گردی سروس اور نیم خودمختار کردستان کے مسلح دستوں پیشمرگہ کو تربیت اور منصوبہ بندی میں مدد شامل رہے گی۔

تاہم سب سے بڑا غیر یقینی عنصر ایران کی حمایت یافتہ عراقی عسکری گروہ ہیں۔

عراقی وزیرِ اعظم علی الزیدی ابتدا میں چاہتے تھے کہ 30 ستمبر تک ان گروہوں کو مکمل طور پر ریاستی اختیار کے تحت لے آیا جائے، لیکن اطلاعات کے مطابق یہ تنظیمیں 2027 کے اختتام تک توسیع چاہتی ہیں۔

ماہرین اس بارے میں اختلاف رکھتے ہیں کہ آیا یہ ٹائم لائن بھی حقیقت پسندانہ ہے یا نہیں۔

سعید کہتے ہیں: ’ایسا نہیں ہونے والا۔‘

وہ عراق کے سیاسی اور مالیاتی نظام میں ملیشیاؤں کی گہری جڑیں، پارلیمان میں ان کی موجودگی اور تہران کے ساتھ ان کے تعلقات کا حوالہ دیتے ہیں۔

تاہم سلیمن ایک ممکنہ مثبت پہلو بھی دیکھتے ہیں۔

ان کے مطابق امریکی فوجیوں کی عدم موجودگی میں ملیشیائیں ایک اہم سیاسی ہتھیار کھو سکتی ہیں، جس سے بغداد کو ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے زیادہ گنجائش مل سکتی ہے۔

تاہم وہ ایک زیادہ سنگین خطرے سے خبردار کرتے ہیں: ’میں نے متعدد عراقی وزرائے اعظم سے بات کی ہے جو اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ اس سے خانہ جنگی یا ممکنہ طور پر عراق کے اندر ایک اور داخلی جنگ جنم لے سکتی ہے۔'

سعید کو داعش کے دوبارہ ابھرنے کا بھی خدشہ ہے اور وہ اسے 2011 کے انخلا کے بعد کے حالات سے جوڑتے ہیں۔

ان کے مطابق جب امریکی فوجی نکل گئے تھے تو بغداد کی شیعہ قیادت والی حکومت نے سنی رہنماؤں کی گرفتاری اور انھیں سیاسی عمل سے باہر کرنے کی مہم شروع کی، جس نے بہت سے سنی فرقہ سے تعلق رکھنے والوں کو انتہا پسندی کی طرف دھکیلا اور داعش کے عروج میں مدد دی۔

سعید خبردار کرتے ہیں کہ چونکہ سنی برادریاں ایک بار پھر اپنے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہیں، اس لیے انتہا پسندی کا خطرہ نمایاں ہے۔

سلیمن اس سے زیادہ پُرامید ہیں اور کہتے ہیں کہ عراقی سکیورٹی فورسز ایک دہائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہیں اور کسی بھی ایسے خطرے سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت رکھتی ہیں۔

US troops pull down a large statue of Saddam Hussein in Baghdad following the US-led invasion of Iraq in 2003, while a US flag draped over the statue's head covers its face
Gamma-Rapho via Getty Images
2003 میں امریکی قیادت میں عراق پر حملے کے بعد امریکی فوجی بغداد میں صدام حسین کے ایک بڑے مجسمے کو گرا رہے ہیں جبکہ مجسمے کے سر پر لپٹا امریکی پرچم اس کے چہرے کو ڈھانپے ہوئے ہے۔

علاقائی سطح پر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انخلا عراق میں امریکہ اور ایران کے درمیان طاقت کے توازن کے بارے میں نئے سوالات بھی پیدا کرتا ہے۔

صفوان الامین کے مطابق ایران ’اگر ممکن ہوا تو اپنا اثر و رسوخ مزید مضبوط کرے گا‘ اور وہ خبردار کرتے ہیں کہ اس انخلا کو لازماً حتمی نہ سمجھا جائے۔

وہ کہتے ہیں: ’امریکی فوجی 2011 میں بھی عراق چھوڑ چکے تھے، لیکن چند سال بعد دوبارہ واپس آ گئے تھے۔ یہ کہانی کے ایک باب کا خاتمہ ہے، پوری کہانی کا نہیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US