عراق میں دو دہائیوں سے زائد عرصے تک موجود رہنے کے بعد امریکی افواج نے اپنا مشن باقاعدہ طور پر ختم کرتے ہوئے ملک سے انخلا مکمل کر لیا ہے۔ اس پیشرفت کے بعد عراقی فوج نے دارالحکومت بغداد اور نجف کی سڑکوں پر فوجی گاڑیوں کے ساتھ پریڈ کا اہتمام کیا۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایک تقریب سے خطاب کے دوران یکم اکتوبر کو 'یومِ خودمختاری' کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ عراقی حکومت کے مطابق غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ایران نواز دھڑوں کے پاس وہ جواز ختم ہو جائے گا جس کی بنیاد پر وہ اب تک اپنے پاس اسلحہ رکھتے آئے ہیں۔
امریکا اور عراق کے درمیان 2024 میں اس فوجی مشن کو ختم کرنے کا معاہدہ ہوا تھا، جس کے بعد امریکی فوجی مرحلہ وار ملک بھر کے مختلف اڈوں سے نکل کر شمالی کردستان کے خود مختار علاقے تک محدود ہو گئے تھے۔
واضح رہے کہ امریکی افواج نے 2003 میں عراقی صدر صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے لیے حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد 2011 کے اختتام پر امریکی افواج واپس چلی گئی تھیں، لیکن 2014 میں داعش کی جانب سے عراق کے ایک تہائی حصے پر قبضے کے بعد انہیں دوبارہ واپس آنا پڑا تھا۔ اس طویل تنازع کے دوران 4,500 سے زائد امریکی فوجی مارے گئے جبکہ 2 لاکھ سے زائد عراقی شہری بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔