پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ لانگ مارچ ایک سیاسی اور اٹل فیصلہ ہے اور یہ تحریک انصاف کا جمہوری حق ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ مکمل طور پر پرامن ہوگا اور اس کے ذریعے کسی پر چڑھائی نہیں کی جا رہی۔ خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی نہ تو کوئی صورتحال ہے اور نہ ہی یہ لگنا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ کل اسپیکر قومی اسمبلی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا تاہم آج ملاقات کا امکان نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی ہی صوبے کے وزیراعلیٰ رہیں گے، جبکہ ایم پی ایز وزیراعلیٰ کی نشست کے لیے اپنی سی ویز جیب میں رکھیں۔
شوکت یوسفزئی کے خط کے بارے میں انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے واٹس ایپ پر خط بھیجا تھا جو ان دونوں کے درمیان کی بات ہے، پارٹی کو شوکت یوسفزئی سے کوئی ناراضگی نہیں ہے اور وہ اب بھی صوبائی سیکریٹری اطلاعات ہیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات ضرور ہونی چاہیے اور اس ملاقات میں ان کی موجودگی کا انحصار محمود خان اچکزئی پر ہوگا۔
دوسری جانب چارسدہ میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما اسد قیصرکا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگایا گیا تو قانونی مقابلہ کریں گے، عوامی ردعمل بھی آئےگا۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کا اختیار ویسے بھی چھین لیا گیا ہے، گورنر راج لگائیں کوئی پریشانی نہیں، صوبے میں پولیس بے بس ہے، احکامات کہیں اور سے آرہے ہیں، خیبر پختونخوا میں عملاً گورنر راج قائم ہے۔
اسد قیصرکا کہنا تھا کہ ہمارےاراکین اسمبلی اور وزرا کو اٹھایا جا رہا ہے، ملک میں آئین و قانون کو نظر انداز کیا جارہا ہے، بانی پی ٹی آئی کو تمام بنیادی انسانی حقوق سےمحروم رکھا گیا ہے، ملک میں شفاف انتخابات کرائے جائیں۔