وسائل کا نہیں، نیت کا مسئلہ ہے، پی ٹی آئی ساڑھے 12 سال کا حساب دے: عطاء اللہ تارڑ

image

کوہاٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی اور پی ٹی آئی کی سیاست پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت انسداد دہشت گردی کے لیے وسائل کی کمی کا رونا روتی ہے، حالانکہ مسئلہ فنڈز کا نہیں بلکہ ان کی نیت کا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبائی حکومت جواب دے کہ امن و امان اور ترقیاتی کاموں کا پیسہ کہاں گیا؟ پی ٹی آئی کو فنڈز کی بات کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کیونکہ انہوں نے تمام من پسند افراد کو ٹھیکے دے رکھے ہیں اور مائننگ کے ٹھیکے بھی اپنے لوگوں کو بانٹے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کا تمام فنڈ پی ٹی آئی کھا جاتی ہے اور انہیں اپنے ساڑھے 12 سالہ دورِ اقتدار کا جواب دینا ہو گا۔

وفاقی وزیر نے وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کچھ نہیں کرسکتے تو انہیں کرسی چھوڑ کر گھر چلے جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو چاہیے تھا کہ وہ کوہاٹ آ کر زخمیوں کی عیادت کرتے، لیکن وہ ہیلی کاپٹر پر 15 منٹ کا چکر لگا کر چلے گئے اور بعد میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے لاہور پہنچ گئے۔ پی ٹی آئی قيادت کے پاس انتشار پھیلانے کا وقت ہے لیکن صوبے کے عوام کے لیے نہیں۔

عطاء اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ کسی کو بھی اسلام آباد کی طرف انارکی پھیلانے کے لیے نہیں آنے دیا جائے گا اور جلاؤ گھیراؤ کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے کبھی پرامن احتجاج نہیں کیا، یہ احتجاج کے دوران خواتین کو ہراساں کرتے ہیں اور پولیس اہلکاروں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے چھ بار مذاکرات کی پیشکش کے باوجود پی ٹی آئی نے سنجیدگی نہیں دکھائی، اگر یہ بات چیت کے لیے سنجیدہ ہوتے تو بہت پہلے کرچکے ہوتے۔

اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات نے کوہاٹ دھماکے میں شہید اہلکار کے والد اور اسپتال میں زیرِ علاج زخمیوں کی عیادت کی۔ انہوں نے کہا کہ آج کوہاٹ کی فضا سوگوار ہے اور پاک فوج و پولیس کے بہادر جوانوں نے دفاعِ وطن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ بزدل دہشت گرد چھپ کر وار کرتے ہیں، لیکن ہم سب مل کر اس ناسور کا مکمل خاتمہ کریں گے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US