امریکی ٹیکنالوجی کمپنی نویڈیا کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ نے ان خدشات اور دعوؤں کو مسترد کردیا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی انسانیت کے خاتمے کا باعث بن جائے گی۔
ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ 2030 میں دنیا کے خاتمے کا صفر فیصد امکان ہے اور لوگوں کو ڈرانا غیر ضروری، غیر ذمہ دارانہ اور سائنسی شواہد کے بغیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کی کمپنی کی کامیابی براہ راست محفوظ پراڈکٹس اور سروسز کی تیاری سے منسلک ہے، اور ایسا نہ کرنے سے کمپنی کی قدر گھٹ جائے گی۔
یہ ردعمل انتھروپک کے سابق محقق جیکب کوسن کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایکس (ٹوئٹر) پر کہا تھا کہ اے آئی کے اس دہائی کے اختتام تک انسانوں کو ختم کرنے کے 10 فیصد امکانات موجود ہیں۔ کوسن کے مطابق کمپنیوں کے درمیان سپر انٹیلی جنس سسٹمز کی تیاری کے مقابلے سے لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی طاقتور سسٹمز میں تبدیل ہو کر ہیکنگ کرنے اور اختیار و وسائل پر قبضہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس پیشرفت کے تناظر میں امریکی قانون سازوں نے بھی اے آئی کمپنیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انتھروپک کے سی ای او داریو اموڈے نے اے آئی کی ترقی کی رفتار فوری طور پر سست کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسا نہ ہونے پر اگلے 6 سے 12 مہینوں میں باغی اے آئی ایجنٹس انٹرنیٹ کو ہائی جیک کر کے کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اس سے قبل اوپن اے آئی کے سی ای او سام آلٹمین اور ایلون مسک بھی پیشرفت کی رفتار سست کرنے کی اپیل کر چکے ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے آئی کے حوالے سے ان تمام خدشات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں افواہ اور سازش قرار دیا ہے۔